اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبرانی اخبار یدیعوت آحارانوت نے اپنی رپورٹ میں اسرائیلی قیادت کی ان تشویشوں کا جائزہ لیا ہے جو مصر کی ممکنہ طور پر نئے دفاعی اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ بعض تکنیکی معاملات طے ہونے کے بعد مصر بھی ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے نئے دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔
اسرائیلی اخبار نے مصر کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت کو تل ابیب کے لیے طویل المدتی سکیورٹی خطرہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصر خطے میں ایک اہم فوجی طاقت ہے اور اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے والا پہلا عرب ملک بھی ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیل اپنی جنوبی سرحد کی سلامتی کے لیے قاہرہ کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مصر ایسے اتحاد کا حصہ بنتا ہے جس میں ترکی اور پاکستان پہلے ہی شامل ہیں تو اس کے اسرائیل اور مصر کے درمیان موجود سکیورٹی تعاون پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے نئے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
یدیعوت آحارانوت کے مطابق اسرائیل کو خاص طور پر ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی فوجی صلاحیتوں کے ساتھ مصر کی دفاعی طاقت کے امتزاج پر تشویش ہے۔ ترکی کے پاس ڈرونز سمیت جدید دفاعی ٹیکنالوجی ہے، سعودی عرب کے پاس وسیع مالی وسائل ہیں، مصر خطے کی بڑی فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے جبکہ پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق ان صلاحیتوں کا یکجا ہونا خطے میں ایک ایسے مضبوط دفاعی بلاک کو جنم دے سکتا ہے جو اسرائیل کی روایتی فوجی برتری کے لیے نیا چیلنج بن جائے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دفاعی اتحاد کا قیام خطے کے ممالک کی جانب سے امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر کم ہوتے اعتماد کی علامت ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسرائیل مزید سفارتی تنہائی کا شکار ہوسکتا ہے۔
یدیعوت آحارانوت کے مطابق اگر مستقبل میں خطے میں کوئی بڑا فوجی تصادم ہوتا ہے تو اسرائیل کو ایک ایسے متحد علاقائی محاذ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے اسے اپنی موجودہ دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران طے پایا تھا، جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستانی وزیراعظم محمد شہباز شریف شریک تھے۔
آپ کا تبصرہ