9 اگست 2026 - 15:12
مآخذ: ابنا
اگر امریکی فوج نے ایران میں قدم رکھا تو اس کے قدم کاٹ دیں گے

ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے کہا ہے کہ ایران کی زمینی افواج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور زمینی حملے یا خطرے کی صورت میں سخت اور بازدار جواب دیا جائے گا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے کہا ہے کہ ایران کی زمینی افواج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور زمینی حملے یا خطرے کی صورت میں سخت اور بازدار جواب دیا جائے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق علی جہانشاہی نے جنوب مشرقی ایران اور مکران کے ساحلی علاقوں میں بری فوج کی مختلف یونٹس کا دورہ کیا اور فوجی کمانڈروں اور اہلکاروں سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی بری فوج سرحدی علاقوں میں ہونے والی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور ممکنہ خطرات پر نظر رکھتے ہوئے مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہے۔ ان کے مطابق فوج ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہی ہے۔

ایرانی بری فوج کے کمانڈر نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران فوج نے زمینی جنگ اور مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی اور مسلسل تربیتی پروگرام کیے ہیں۔ ان کے بقول کسی بھی دشمنانہ اقدام کی صورت میں فوج فیصلہ کن اور بازدار کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جہانشاہی نے اپنے خطاب میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی امریکی فوجی کو ایران میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تو ایرانی فوج اسے روکنے کے لیے کارروائی کرے گی۔

انہوں نے ایرانی مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ عوامی حمایت کو بھی ملک کی طاقت کا اہم عنصر قرار دیا اور کہا کہ ایرانی عوام نے مشکل حالات میں مسلح افواج کے ساتھ تعاون جاری رکھا ہے۔

ایرانی کمانڈر کے مطابق سرحدی علاقوں میں فوری ردعمل دینے والی فورسز، خصوصی دستے، ڈرون یونٹس، توپ خانے اور بکتر بند دستوں کی موجودگی ملک کی سرحدوں کے تحفظ اور مستقل سکیورٹی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha