اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شامی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج نے قنیطرہ کے شمال مغربی مضافات میں واقع المنطرہ ڈیم کے علاقے میں پیش قدمی کی اور الصمدانیہ الغربیہ کے قریب اپنی پوزیشنیں قائم کیں۔
ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی علیحدگی نگرانی فورس (UNDOF) کے اہلکار اسرائیلی فوجی پوزیشنوں سے چند ہی میٹر کے فاصلے پر موجود تھے۔ اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے الصمدانیہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے ہونے والے نقصانات کا بھی جائزہ لیا۔
اسرائیلی فوج نے الصمدانیہ الشرقیہ کو خان ارنبه سے ملانے والی سڑک پر عارضی مٹی کا بند قائم کرکے اسے آمد و رفت کے لیے بند کردیا۔ اس دوران ایک بلڈوزر، ایک ٹینک اور 50 سے زائد اسرائیلی فوجی سڑک کے اطراف تعینات رہے، جس کے باعث علاقے میں شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔
نام نہاد شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق دو ٹینکوں، دو بلڈوزروں اور دیگر فوجی گاڑیوں پر مشتمل اسرائیلی گشتی دستہ الصمدانیہ الغربیہ میں داخل ہوا اور وہاں موجود زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج مرکزی شاہراہوں پر مسلسل نقل و حرکت اور اہم راستوں پر کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے ان علاقوں پر اپنا فوجی تسلط بڑھانے کے اسرائیلی منصوبے کا اندازہ ہوتا ہے۔
مقامی شہریوں نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں شامی عبوری حکومت کی خاموشی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قابض فوج کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے اسرائیل کو شام کی سرزمین پر اپنی کارروائیاں مزید وسعت دینے کا موقع مل رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران عارضی فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے راہ گیروں اور شہریوں کے گھروں کی تلاشی بھی لی جاتی ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق گرفتاریوں، فضائی حدود کی خلاف ورزی، فوجی چوکیوں کے قیام، شہریوں کو ہراساں کرنے، فضائی اور توپ خانے کے حملوں سمیت مختلف نوعیت کی اسرائیلی کارروائیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
جنوبی شام کے شہری گزشتہ ایک برس سے مسلسل خوف اور بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کی رات کے وقت کارروائیاں، چیک پوسٹوں پر شہریوں کو ہراساں کرنا اور شامی فضائی حدود میں جاسوس طیاروں کی پروازیں ان کے معمولاتِ زندگی کو متاثر کررہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ