اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی راستہ قائم کرنے پر مذاکرات کر رہے ہیں اور دونوں ممالک اس حوالے سے معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
عراقچی نے تاہم واضح کیا کہ اس طریقہ کار پر عمل درآمد کے لیے تہران کی مطلوبہ شرائط پوری کرنا ضروری ہے، جن میں ایران کے مطابق امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمت کی خلاف ورزی کے ازالے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ عارضی بحری راستہ اس وقت تک استعمال کیا جا سکتا ہے جب تک جہازوں کی مستقل آمد و رفت کے لیے راستے کے تعین سے متعلق تکنیکی اور قانونی مسائل حل نہیں ہو جاتے۔
یہ بیان ایک امریکی عہدیدار کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں متاثر ہونے والی تیل کی برآمدات بحال ہونے کے امکان کا ذکر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاملہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات سے متعلق نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے طے کردہ طریقہ کار اور شرائط کے تحت ہوگا۔
سپاہ کے ترجمان حسین محبی نے بھی اس مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ ایران کی جانب سے طے کردہ طریقہ کار اور شرائط کے تابع ہے اور اس کا تہران اور مسقط کے درمیان جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔
آپ کا تبصرہ