6 اگست 2026 - 16:43
تجزیہ: یمن کے خلاف بحری اتحاد؛ امریکہ کی قیادت میں سعودی عرب کا نیا امتحان

ماہرین کے مطابق یمن کے خلاف مجوزہ بحری اتحاد ایسے وقت میں تشکیل دیا جا رہا ہے جب امریکہ خطے میں جاری تنازعات کی عسکری اور مالی قیمت عرب ممالک پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اس حکمتِ عملی کا سب سے بڑا نقصان سعودی عرب کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، 2014 سے یمن کے خلاف شروع ہونے والی جنگ مختلف صورتوں میں آج بھی جاری ہے، جس میں فضائی و بحری ناکہ بندی، سیاسی دباؤ اور محدود فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔ اس دوران انصار اللہ یمن کی عسکری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وہ ابتدائی ہلکے ہتھیاروں سے آگے بڑھ کر بیلسٹک میزائلوں اور جدید ڈرونز کے استعمال کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، حالیہ عرصے میں ایران کی جانب سے یمن کی فضائی ناکہ بندی ختم کرانے کے بعد سعودی عرب نے انصار اللہ کے زیرِ کنٹرول بعض علاقوں پر حملے کیے، جن کے جواب میں یمن کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔

یمن کے خلاف بحری اتحاد کی افادیت پر سوالات

رپورٹ میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک کثیر ملکی بحری اتحاد کے قیام کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کا مقصد بحیرۂ احمر، باب المندب، خلیج عدن اور بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کے ساتھ انصار اللہ کی بحری کارروائیوں کا مقابلہ کرنا بتایا گیا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر علیرضا تقوی نیا کے مطابق اگرچہ اس اتحاد میں ترکیہ، پاکستان، مصر، کویت اور قطر سمیت 13 ممالک شریک ہیں، تاہم مجموعی عسکری صلاحیت کے لحاظ سے یہ اتحاد امریکی فوجی طاقت کے ایک فیصد کے برابر بھی نہیں پہنچتا، جبکہ بیشتر رکن ممالک بحری جنگ اور لاجسٹکس کے میدان میں مؤثر عملی صلاحیت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے طیارہ بردار بحری بیڑوں اور جدید بمبار طیاروں کے باوجود انصار اللہ کی بحری صلاحیت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، اس لیے اس نئے اتحاد کی کامیابی پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔

یمن کی جغرافیائی برتری

ڈاکٹر تقوی نیا کے مطابق یمن کے پہاڑی علاقے انصار اللہ کے لیے ایک مضبوط دفاعی حصار فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے میزائل اور ڈرون مراکز براہِ راست حملوں سے بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انصار اللہ کے جنگجوؤں نے برسوں کے تجربے کے ساتھ اپنی عسکری مہارت میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیٹریاٹ جیسے مغربی دفاعی نظام بھی انصار اللہ کے حملوں کو مؤثر انداز میں روکنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور توانائی کے مراکز، خصوصاً آرامکو تنصیبات، بدستور خطرے کی زد میں ہیں۔

سعودی عرب کو ممکنہ نقصانات

ڈاکٹر تقوی نیا کے مطابق امریکہ خطے میں جنگ کے اخراجات اور دباؤ اپنے عرب اتحادیوں پر منتقل کرنا چاہتا ہے، جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان سعودی عرب کو ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یا ترکیہ جیسے ممالک کی شمولیت زیادہ تر علامتی نوعیت کی معلوم ہوتی ہے اور یہ ممالک اپنے اقتصادی مفادات کے باوجود ایران کے ساتھ براہِ راست کشیدگی سے گریز کریں گے۔

خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

رپورٹ کے مطابق اگر سعودی عرب نے موجودہ پالیسی جاری رکھی تو بحیرۂ احمر میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور یمن کی جانب سے سعودی عرب کے اہم بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے مراکز پر مزید شدید حملوں کا امکان موجود ہے۔ ماہر کے مطابق یمن کے ابتدائی حملے صرف انتباہ تھے، جبکہ آئندہ ردعمل زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔

مزاحمتی گروہوں کے درمیان رابطہ

ڈاکٹر تقوی نیا نے کہا کہ خطے میں مختلف مزاحمتی گروہوں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم موجود ہے، اس لیے اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو عراق سمیت دیگر محاذوں سے بھی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ اگر امریکہ جیسی عالمی طاقت بھی انصار اللہ کی بحری کارروائیوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی تو سعودی قیادت میں قائم ہونے والا یہ کثیر ملکی اتحاد ایک بڑے چیلنج سے دوچار ہوگا، اور اس کی ناکامی خطے کی سلامتی، عالمی تجارت اور رکن ممالک کی معیشت پر وسیع اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha