اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پیٹر سالیسبری، وولف-کرسچیان پائس اور ہنری تھامسن کے مشترکہ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کی بازدارانہ صلاحیت برقرار رکھنے اور امریکہ و اس کے اتحادیوں پر دباؤ قائم رکھنے کی صلاحیت نے بہت سے تجزیہ کاروں اور حکمتِ عملی کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں امریکہ اور اسرائیل کی یہ حکمتِ عملی کہ "تہران میں آکٹوپس کا سر کاٹنے" سے ایران کے اتحادیوں کا نیٹ ورک بکھر جائے گا، اب زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
فارن افیئرز کے مطابق، محورِ مزاحمت اب ایک مرکزی ڈھانچے کے بجائے ایک لچکدار اور کثیر سطحی نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں فنی مہارت، وسائل، سپلائی لائنز اور فیصلہ سازی کا نظام مختلف مقامات پر تقسیم ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کمانڈروں کی ہلاکت یا اسلحہ سازی کے مراکز اور گوداموں کی تباہی کے باوجود یہ نیٹ ورک تیزی سے اپنی صلاحیت بحال کر لیتا ہے۔
تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ مزاحمتی گروہوں نے اب حملہ آور ڈرون تیار کرنے اور متبادل راستوں کے ذریعے اپنی سپلائی چین دوبارہ قائم کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، عالمی منڈی میں آنے والی تبدیلیوں نے بھی امریکی دباؤ کے روایتی ذرائع کی افادیت کم کر دی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیاں، مالیاتی قدغنیں اور سپلائر کمپنیوں پر دباؤ جیسی پالیسیاں، جو ماضی میں زیادہ مؤثر تھیں، اب عالمی سپلائی چین کے پھیلاؤ، خصوصاً چینی صنعت کاروں کے بڑھتے ہوئے کردار کے باعث پہلے جیسا اثر نہیں رکھتیں۔
مصنفین کا دعویٰ ہے کہ ڈرونز کی تیاری کے لیے درکار بہت سے پرزے کم لاگت میں آن لائن مارکیٹوں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ عالمی تجارت کے وسیع حجم کے باعث ان لین دین کی نگرانی بھی انتہائی دشوار ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اگر واشنگٹن فوجی دباؤ اور اقتصادی جنگ پر انحصار جاری رکھتا ہے تو اس سے صرف کشیدگی کے نئے ادوار جنم لیں گے اور امریکہ ایک طویل علاقائی جنگ میں الجھ سکتا ہے۔
مصنفین نے سفارش کی ہے کہ امریکہ ماضی کی پالیسیوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی نئی حکمتِ عملی اپنائے جو مزاحمتی گروہوں کے تجارتی اور مالیاتی نیٹ ورکس کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی حل تلاش کرنے پر مبنی ہو، کیونکہ ان کے بقول خطے کو سابقہ صورتحال کی طرف واپس لے جانا اب ممکن نہیں رہا۔
آپ کا تبصرہ