5 اگست 2026 - 15:11
مآخذ: ابنا
سی بی ایس نیوز: امریکہ کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذخائر تقریباً ختم

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے دو باخبر امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے، جس کے باعث اضافی ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے دو باخبر امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے، جس کے باعث اضافی ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنے ATACMS طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا تقریباً مکمل ذخیرہ استعمال کر لیا ہے، جبکہ پیٹریاٹ اور تھاڈ (THAAD) فضائی دفاعی نظاموں کے انٹرسیپٹر میزائل بھی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول، ان میزائلوں کی کھپت امریکی دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت سے زیادہ رفتار سے جاری ہے۔

اس سے قبل سی این این نے بھی باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ اپنے تھاڈ نظام کے تقریباً 80 فیصد اور پیٹریاٹ میزائلوں کے قریب نصف ذخائر استعمال کر چکا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فوج نے ٹاما ہاک کروز میزائلوں کے تقریباً نصف ذخائر بھی استعمال کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے اہم جنگی ذخائر میں تیزی سے کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ یہ معاملہ پینٹاگون کے لیے بھی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔

ادھر امریکی ذرائع کے مطابق فضائی دفاعی میزائلوں کی کم ہوتی دستیابی پر خلیجی ممالک میں بھی خدشات پائے جا رہے ہیں، کیونکہ خطے میں امریکی دفاعی صلاحیت پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha