اہل بیت نیوزایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی اعلیٰ مذاکراتی ٹیم کے رکن حمید عاصم نے کہا ہے کہ جب تک سعودی عرب یمن پر حملے بند نہیں کرتا اور محاصرہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حمید عاصم نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب 2015 سے مسلسل یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہا ہے اور حالیہ بیانات بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الحدیدہ بندرگاہ، مواصلاتی مراکز اور کمران جزیرے پر حالیہ حملے سعودی عرب کی جانب سے محاصرہ برقرار رکھنے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صنعا نے ماضی میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے اقدامات کیے، تاہم ان کے بقول ریاض نے امن معاہدوں کی شرائط پر عمل نہیں کیا اور دوبارہ فوجی کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا۔
حمید عاصم نے خبردار کیا کہ اگر یمن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یمن کی دفاعی حکمتِ عملی "ہوائی اڈے کے بدلے ہوائی اڈہ، بندرگاہ کے بدلے بندرگاہ، اور بنیادی تنصیبات کے بدلے بنیادی تنصیبات" کے اصول پر قائم ہے، جو اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک سعودی حملے اور محاصرہ ختم نہیں ہو جاتے
آپ کا تبصرہ