اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی مذہبی تنظیم تجمع علمائے مسلمین نے اپنے ایک بیان میں حالیہ سیاسی پیش رفت پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومتِ لبنان پر قومی خودمختاری کے اصولوں سے انحراف کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بعض فیصلے عوام کی ایک بڑی تعداد کی خواہشات کے برخلاف کیے گئے ہیں۔
بیان میں لبنان کے صدر جوزف عون کے حالیہ دورۂ امریکہ کو بھی غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں نہ تو اسرائیلی افواج مقبوضہ لبنانی علاقوں سے واپس ہوئیں اور نہ ہی اسرائیلی حملے رکے۔
اسرائیل سے براہِ راست مذاکرات کی مخالفت
تنظیم نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد "فریم ورک معاہدہ" نہ قانونی حیثیت رکھتا ہے اور نہ ہی اسے قومی تائید حاصل ہے، اس لیے یہ کسی پائیدار حل کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ پہلے اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے، اسرائیلی افواج لبنان کی تمام مقبوضہ سرزمین سے مکمل انخلا کریں، اس کے بعد مزاحمتی ہتھیاروں کے معاملے پر قومی دفاعی حکمتِ عملی مرتب کرنے کے لیے ایک جامع قومی کانفرنس منعقد کی جائے۔
ایران کی حمایت، امریکی اڈوں کے انخلا کا مطالبہ
تجمع علمائے مسلمین نے بیان میں ایران کی اس موقف پر حمایت کا اظہار کیا جسے اس نے "امریکی حملوں کے خلاف دفاع" قرار دیا۔ تنظیم نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے علاقوں کو کشیدگی کا مرکز بننے سے بچانے کے لیے امریکی فوجی اڈوں اور افواج کے انخلا کا مطالبہ کریں۔
بیان میں عرب دنیا کی سیاسی اور عوامی قوتوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اردن کی بعض جماعتوں کی طرز پر امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے کی مہم کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔
قومی خودمختاری پر زور
بیان کے اختتام میں تنظیم نے کہا کہ لبنان کی قومی خودمختاری کا تحفظ، اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور تمام سیاسی قوتوں کی شمولیت سے جامع دفاعی حکمتِ عملی کی تشکیل ہی ملک میں امن و استحکام کی ضمانت ہے، جبکہ اس کے برعکس اختیار کیا جانے والا ہر راستہ بحران کو مزید طول دے گا اور کشیدگی میں اضافہ کرے گا۔
آپ کا تبصرہ