اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عالمی اتحادِ علمائے مقاومت کے سربراہ شیخ ماہر حمود نے اپنے ہفتہ وار بیان میں سوال اٹھایا کہ کیا لبنان کا سیاسی نظام صدارتی نظام میں تبدیل ہو گیا ہے کہ صدرِ مملکت تنہا اہم قومی فیصلے کرنے لگیں؟
انہوں نے کہا کہ موجودہ طرزِ عمل لبنان کے آئینی اور سیاسی ڈھانچے سے مطابقت نہیں رکھتا اور ملک کے مستقبل سے متعلق فیصلے قومی اتفاقِ رائے اور تمام فریقوں کی شمولیت سے کیے جانے چاہییں۔
شیخ ماہر حمود نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل لبنان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ان کے بقول یہ صورتِ حال مستقل نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بیرونی طاقت لبنان کے عوام کی آزادانہ مرضی، قومی شناخت، ثقافت اور قومی مفادات پر ہمیشہ کے لیے غلبہ حاصل نہیں کر سکتی۔
عالمی اتحادِ علمائے مقاومت کے سربراہ نے لبنان کے صدر کے حالیہ دورۂ وائٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم کے بعض اقدامات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل، ان کے بقول، لبنان کے زمینی حقائق اور قومی ترجیحات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ لبنان کا مستقبل عوامی ارادے، سیاسی خودمختاری کے تحفظ اور قومی مفادات کے دفاع کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے، اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا عارضی سیاسی تبدیلی کو ملک کی فیصلہ سازی کی سمت متعین نہیں کرنی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ