25 جولائی 2026 - 15:39
مآخذ: ابنا
آبنائے ہرمز میں عدم استحکام امریکہ کی معاہدہ شکنی کا نتیجہ ہے

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خطے میں موجودہ عدم استحکام امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور کشیدگی میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خطے میں موجودہ عدم استحکام امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور کشیدگی میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

یہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے ایران اور چین کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی صورتحال اور تنظیم کے اہم ایجنڈوں پر تبادلہ خیال کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے تہران اور بیجنگ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور باہمی معاہدوں پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے پلیٹ فارمز کو دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔

عراقچی نے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق طے شدہ مفاہمت کی خلاف ورزی اور ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے خطے میں کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں موجودہ غیر یقینی صورتحال انہی اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کو معمول بننے سے روکے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے چین کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش بھی کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha