اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل عزم رکھتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں موجودہ کشیدگی کو انہوں نے امریکہ کی پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ قرار دیا۔
یہ ملاقات کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ٹرانسپورٹ، توانائی اور دیگر شعبوں میں ایران اور روس کے تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے شنگھائی تعاون تنظیم، برکس اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی فورمز میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور طے شدہ معاہدوں پر عملدرآمد تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
گفتگو کے دوران مغربی ایشیا کی تازہ صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی بھی زیر بحث آئی۔ عراقچی نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت پر روس کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال امریکہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے سفارتی کوششوں میں ہمیشہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ملک اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت سے متعلق روس کے مؤقف کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار سلامتی کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اور باہمی اعتماد پر مبنی سیکیورٹی نظام کی ضرورت ہے، اور روس اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
آپ کا تبصرہ