اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار فائننشل ٹائمز نے آلیس ہینکاک، جیکب جوڈا اور میلکم مور کی مشترکہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ فوجی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو صرف فضائی حملوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ چیلنج درپیش ہے۔
رپورٹ کے مطابق عسکری ماہرین اور شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس اہم بحری راستے کو طاقت کے ذریعے دوبارہ کھولنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، اور اس کے باوجود بھی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ جب تک ایران تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جہاز رانی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکتی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یونانی کمپنی ڈائناماک کے دو آئل ٹینکر، جو امریکی فضائی نگرانی میں عمان کے ساحل کے قریب بحری راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ایرانی میزائلوں کا نشانہ بنے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکہ نے ایران کے ساحلی علاقوں میں فوجی اہداف پر فضائی حملوں میں اضافہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دو ٹینکروں پر حملے نے شپنگ کمپنیوں کو واضح پیغام دیا کہ امریکی تحفظ بھی محفوظ آمد و رفت کی مکمل ضمانت فراہم نہیں کر سکتا۔
"عمان روٹ" پر امریکی کوششیں
فائننشل ٹائمز کے مطابق واشنگٹن جہازوں کی آمد و رفت کو ایک ایسے راستے سے جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جسے "عمان روٹ" کہا جا رہا ہے، تاہم ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو اس کی شرائط کے مطابق ہی گزرنے کی اجازت ہوگی، بصورت دیگر انہیں جائز ہدف سمجھا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے 8 جولائی کو ایران پر فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سے ایران نے مبینہ طور پر کم از کم سات جہازوں کو ڈرونز، اینٹی شپ میزائلوں اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
سابق بحری کمانڈروں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جس کے باعث شپنگ اور انشورنس کمپنیاں معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
برطانوی بحریہ کے سابق کمانڈر ٹام شارپ کے مطابق واشنگٹن خطرات کو اس حد تک کم نہیں کر سکے گا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ قرار دیا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے مؤثر بازدارندگی قائم کر لی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور کئی جہاز امریکی نگرانی والے راستے کے بجائے ایران کے ساحل کے قریب سے گزرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
فائننشل ٹائمز کے مطابق توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یونانی ٹینکروں کو نشانہ بنایا جانا ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے، جس کے بعد جہاز مالکان کی خطے میں واپسی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یمن نے سعودی عرب کی بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہازوں کے محاصرے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں اور خام تیل برینٹ کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایندھن کی قیمتیں کم رکھنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
امریکی ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری کے مطابق اگر امریکہ اس آپریشن میں کامیابی چاہتا ہے تو اسے کئی ہفتوں تک روزانہ 150 سے 200 فضائی حملے کرنا ہوں گے تاکہ ایران کے میزائل اور ڈرون لانچنگ مراکز کو تباہ کیا جا سکے۔
تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنے مقاصد کے لیے کسی بڑی فوجی کامیابی کی ضرورت نہیں، بلکہ اگر وہ وقفے وقفے سے کسی ایک جہاز کو بھی نقصان پہنچاتا رہے تو انشورنس اخراجات بلند رہیں گے اور شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز کرتی رہیں گی۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ صرف فوجی حل سے آبنائے ہرمز میں استحکام بحال ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے، جبکہ جہاز رانی کی صنعت سے وابستہ حکام کے مطابق ایران کے ساتھ سیاسی مفاہمت ہی اس آبی گزرگاہ میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی کی بحالی کا تیز ترین راستہ ہو سکتی ہے، اگرچہ اس کے لیے واشنگٹن کو سیاسی قیمت بھی چکانا پڑ سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ