اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں اپنی کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے اور حالیہ حملوں میں المصری خاندان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خاندان کے تمام افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، شہید ہوگئے۔
بیان میں کہا گیا کہ شمالی غزہ میں واقع الیمن السعید اسپتال کو بھی اسرائیلی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
مزاحمتی گروپوں نے کہا کہ المصری اور نسمان خاندانوں پر حملے اسرائیلی جارحیت میں خطرناک اضافے کی علامت ہیں اور ان سے شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار افراد کے احتساب اور غزہ پر حملے رکوانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے ثالثی کرنے والے ممالک، بین الاقوامی اداروں اور معاہدوں کے ضامن فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر حملے رکوانے، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور محصور آبادی تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے مؤثر عملی اقدامات کریں۔
بیان میں دنیا بھر کے آزاد انسانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطین کے حامی کارکنوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ سیاسی اور قانونی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھیں تاکہ غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہو اور فلسطینی عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
آپ کا تبصرہ