22 جولائی 2026 - 16:07
بنگلہ دیش کی قوم اور حکومت ایران کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، رکن پارلیمنٹ

بنگلہ دیش کے رکن پارلیمنٹ مجیب الرحمن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور اسرائیل و امریکہ کی کارروائیوں کے خلاف عوامی احتجاج کے ساتھ ساتھ حکومتی شخصیات نے بھی واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بنگلہ دیش کے رکن پارلیمنٹ مجیب الرحمن، جو تہران میں رہبرِ شہید کی تاریخی تشییعی تقریب میں شرکت کے لیے ایران آئے تھے، نے کہا کہ ایران اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور ان کے ملک کے پارلیمانی وفد کی اس تقریب میں شرکت امتِ مسلمہ کے اتحاد کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اس لیے اگر امتِ مسلمہ کے کسی حصے پر مصیبت آئے تو اس کا درد تمام مسلمانوں کو محسوس ہونا چاہیے۔

مجیب الرحمن نے کہا کہ آج دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے صہیونیت کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اس پر بنگلہ دیش کے عوام نے خوشی کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایران اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو مضبوط اور برادرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نمازِ جنازہ اور تشییعی مراسم میں شرکت کے لیے ایران آئے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمت، مغفرت اور جنت میں بلند مقام عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کا نصب العین اسلامی ممالک میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا فروغ اور امتِ مسلمہ کا اتحاد تھا۔

بنگلہ دیشی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ان کے ملک کی خارجہ پالیسی اس اصول پر قائم ہے کہ جہاں بھی امتِ مسلمہ پر ظلم ہو، وہاں اس کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت اور جماعت اسلامی دونوں نے متعدد مواقع پر اسرائیلی حملوں اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے دس ہزار سے زائد افراد کی شرکت سے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہرے کیے، جبکہ پارلیمنٹ میں قائدِ حزب اختلاف اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کی سخت مذمت کی۔

مجیب الرحمن نے کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوم قوموں، جنگ سے متاثرہ افراد اور اپنے جان و مال کا نقصان اٹھانے والوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ان کے بقول، بنگلہ دیش کی پالیسی یہ ہے کہ نہ کسی پر ظلم کریں گے اور نہ ہی ظلم کو قبول کریں گے۔

انہوں نے آخر میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، دینی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ اور عالم اسلام کی خدمت کے لیے ایران کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ خدمات مستقبل میں بھی اسی قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha