اہل بیر نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حالیہ حملوں نے خطے اور عالمی سطح پر وسیع تجزیوں کو جنم دیا ہے۔ مختلف ذرائع ابلاغ ان حملوں کے پس منظر، مقاصد اور ان کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈال رہے ہیں۔
قطری ویب سائٹ عربی 21 نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اردن حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چند روز کے دوران اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر متعدد حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ خطے میں تناؤ مزید بڑھ گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اردن پر توجہ دینے کی وجہ صرف اس کی جغرافیائی اہمیت نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اردن مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی کارروائیوں کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ واشنگٹن نے جنگ کے آغاز میں بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات سے اپنے بعض فوجی اہلکاروں اور عسکری سازوسامان کو اردن اور اسرائیل منتقل کیا تھا۔
امریکی ذرائع کے مطابق بعض علاقائی اتحادیوں نے اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے پر پابندیاں عائد کیں، جس کے بعد اردن کی عسکری اہمیت میں مزید اضافہ ہوا اور وہ شام، عراق اور خطے میں امریکی آپریشنز کے لیے مرکزی اڈہ بن گیا۔
رپورٹ میں نیویارک ٹائمز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر مرحلہ وار حملے کیے۔ پہلے حملے میں ایک فضائی اڈے کے رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جس میں متعدد امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ اس کے بعد مشرقی اردن میں ایک ایسے فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا جہاں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تعینات تھے، جس سے انہیں نقصان پہنچا۔
بعد ازاں ازرق کے موفق السلطی فضائی اڈے کو دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پہلے حملے میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ دوسرے حملے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور کئی دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں کسی ایک حملے کے بجائے ایک منظم اور مرحلہ وار عسکری مہم کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اب تک ان حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔
امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ ڈیپٹولا کے مطابق ایران کا مقصد صرف امریکی اڈوں کو عسکری نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اردن میں امریکی فوجی موجودگی کی سیاسی اور سکیورٹی لاگت میں اضافہ کرنا بھی ہے، تاکہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور ہوں۔
ادھر امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ کرنل سیڈرک لیٹن کا کہنا ہے کہ ازرق ایئر بیس پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اب بھی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے مؤثر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں ایک اہم سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ جدید اور کثیر سطحی دفاعی نظام سے لیس امریکی اڈوں تک ایرانی حملے کیسے پہنچے؟
اس حوالے سے امریکی بریگیڈیئر جنرل (ر) جان ٹیکرٹ کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی اڈوں کی حفاظت ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کی جاتی ہے، جو بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز، مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور راکٹوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق ایران نے بیک وقت بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون داغ کر "دفاعی نظام کو بھر دینے" (Saturation Attack) کی حکمت عملی اپنائی، جس سے دفاعی نظام پر غیر معمولی دباؤ پڑا اور بعض میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جنگ بندی کے وقفے نے ایران کو اپنی فوجی صلاحیتوں کو ازسرِنو منظم کرنے اور بعض متاثرہ عسکری ڈھانچوں کی بحالی کا موقع فراہم کیا، جبکہ اردن میں حالیہ حملوں کو اس بحالی کی عملی آزمائش قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ