19 جولائی 2026 - 16:15
رہبرِ شہید کی فکر و سیرت میں فلسطین؛ مزاحمت کا نظریہ اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا محور

لبنانی مصنف محمد دعیبس نے کہا ہے کہ رہبرِ شہید انقلابِ اسلامی کی فکر میں فلسطین محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک دینی، اعتقادی اور انسانی نصب العین تھا، جسے وہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور صہیونی قبضے کے خلاف مزاحمت کا بنیادی محور قرار دیتے تھے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی مصنف محمد دعیبس نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ فلسطین اور بیت المقدس کا مسئلہ رہبرِ شہید انقلابِ اسلامی کی فکر، مؤقف اور عملی جدوجہد کا مرکزی موضوع رہا اور وہ فلسطینی عوام کی حمایت کو دینی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیتے تھے۔

انہوں نے لکھا کہ رہبرِ شہید کا عقیدہ تھا کہ امتِ مسلمہ کا اتحاد اور اسلامی مقدسات کا تحفظ، فلسطین کی حمایت سے وابستہ ہے، جبکہ صہیونی رژیم کے سامنے کسی بھی قسم کی پسپائی پورے عالمِ اسلام کے مستقبل کو خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے مزاحمت کی حمایت کو ہمیشہ ایک مستقل اور عملی حکمتِ عملی کے طور پر اپنائے رکھا۔

محمد دعیبس نے یومِ عالمی القدس کے موقع پر رہبرِ شہید کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطین کو ہمیشہ "عالمِ اسلام کا سب سے گہرا زخم" قرار دیتے تھے اور مسلمانوں پر زور دیتے تھے کہ وہ اس مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ شہید نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک فلسطین کے نصب العین کی حمایت اور صہیونی رژیم کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے منصوبوں کی مخالفت پر ثابت قدمی دکھائی، جبکہ ان کی فکری اور سیاسی میراث آج بھی مزاحمتی تحریکوں اور فلسطین کی آزادی کے حامیوں کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha