اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں "وفاداری بہ مزاحمت" بلاک کے رکن حسن عزالدین نے ایک شہیدِ مزاحمت کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اور لبنان کے صدر جوزف عون کے درمیان تعلقات باہمی احترام اور 27 نومبر کے معاہدے پر عمل درآمد کی بنیاد پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت کے اسلحے کا معاملہ لبنان کا داخلی مسئلہ ہے اور امریکہ سمیت کسی بھی بیرونی فریق کو اس میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔
حسن عزالدین نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران صہیونی رژیم کے شدید حملوں اور بھاری نقصانات کے باوجود مزاحمت نے اپنے عہد کی پاسداری کی اور کسی قسم کی فوجی کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے لبنانی حکومت کے بعض فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات امریکہ اور صہیونی رژیم کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم مزاحمت اپنا کردار اور جدوجہد جاری رکھے گی۔
حسن عزالدین نے خطے کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ایران پر امریکہ اور صہیونی رژیم کے حملوں کو جارحیت قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ان اقدامات کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی خودمختاری کا دفاع کیا ہے اور مستقبل کی علاقائی سیاسی صورتِ حال کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آپ کا تبصرہ