اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ برطانوی حکومت کے اس اقدام کے بعد، جس کے تحت سپاہِ پاسداران انقلاب اسلامی کو "قانونِ انسدادِ ریاستی خطرات" کے دائرے میں شامل کیا گیا، تہران میں برطانیہ کے سفیر ہیوگو شورٹر کو بدھ کے روز وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے معاون وزیر اور مغربی یورپ کے ڈائریکٹر جنرل علیرضا یوسفی نے ملاقات کے دوران برطانوی سفیر کو اس اقدام پر اسلامی جمہوریہ ایران کے شدید احتجاج سے آگاہ کیا۔
علیرضا یوسفی نے برطانوی وزیرِ داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں ایران کے خلاف دیے گئے بیانات کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سپاہِ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے، جو برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ الزامات ایسے وقت میں لگائے جا رہے ہیں جب برطانیہ طویل عرصے سے ایران مخالف دہشت گرد گروہوں اور ان کے عناصر کو پناہ دیتا آیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل نے سپاہِ پاسداران کے ملکی سالمیت، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران یا اس کے ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی قسم کی معاندانہ قانون سازی یا لیبلنگ کا اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مناسب اور دوٹوک جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی برطانوی حکام کی جانب سے ایران کے خلاف دہرائے گئے الزامات کے بعد برطانیہ کے سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا تھا، جہاں ایرانی حکومت نے برطانوی پالیسیوں پر اپنا باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
آپ کا تبصرہ