اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے خارجہ پالیسی سے متعلق مختلف مؤقف نے 2028 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ سیاسی مقابلے سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، دونوں رہنما مستقبل میں ریپبلکن پارٹی کی نمایاں شخصیات تصور کیے جا رہے ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کی پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے ان کے انداز میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور ایران سے متعلق معاملات میں۔
رپورٹ کے مطابق، جے ڈی وینس ماضی میں بیرونِ ملک فوجی مداخلتوں کے ناقد رہے ہیں۔ انہوں نے بعض مواقع پر اسرائیل کی لبنان میں کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات ایران کے ساتھ مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایران سے متعلق سفارتی عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب، مارکو روبیو نسبتاً سخت خارجہ پالیسی کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور اسرائیل کی حمایت پر زور دیتے رہے ہیں۔ لبنان کے معاملے میں بھی وہ سفارتی حکمت عملی کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے جے ڈی وینس سے اختلافات کی تردید کی ہے، تاہم وہ سرکاری طور پر وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پر زور دیتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض ذرائع کے مطابق مارکو روبیو ایران کے ساتھ کسی پائیدار معاہدے کے امکانات کے بارے میں محتاط ہیں، جبکہ جے ڈی وینس نے ابتدائی مذاکرات میں زیادہ سرگرم کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خارجہ نے دونوں رہنماؤں کے درمیان کسی بھی بڑے اختلاف کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کے تمام ارکان صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر مکمل ہم آہنگی کے ساتھ عمل کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ دونوں رہنما عوامی سطح پر متحد دکھائی دیتے ہیں، لیکن ایران اور لبنان جیسے معاملات پر ان کے مختلف نقطۂ نظر مستقبل میں ریپبلکن پارٹی کی اندرونی سیاست اور 2028 کے صدارتی انتخاب پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ