1 جولائی 2026 - 16:28
مآخذ: ابنا
 لبنان کا مستقبل اس کے عوام ہی طے کریں گے

مغربی ایشیا کے امور کے ماہر سید رضا صدرالحسینی نے کہا ہے کہ لبنان کا مستقبل اور خطے میں طاقت کے توازن کا فیصلہ بالآخر لبنان کے عوام کریں گے، نہ کہ بیرونی قوتیں

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،مغربی ایشیا کے امور کے ماہر سید رضا صدرالحسینی نے کہا ہے کہ لبنان کا مستقبل اور خطے میں طاقت کے توازن کا فیصلہ بالآخر لبنان کے عوام کریں گے، نہ کہ بیرونی قوتیں۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مہینوں میں لبنان میں رونما ہونے والی تیز رفتار پیش رفت ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کو امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے جوڑا ہے اور اس حوالے سے اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث ایران نے بعض اوقات امریکہ کے ساتھ تکنیکی مذاکرات بھی مؤخر کیے۔

صدرالحسینی کے مطابق، لبنان کے اندر اس معاملے پر دو مختلف سیاسی مؤقف موجود ہیں۔ ایک گروہ، جس میں پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری بھی شامل ہیں، لبنان کے معاملے کو ایران اور امریکہ کے تعلقات سے وابستہ سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ لبنان کے معاملے کو الگ رکھتے ہوئے بیروت اور تل ابیب کے درمیان براہِ راست رابطوں کا حامی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لبنانی عوام کی بڑی تعداد اسرائیل کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی مخالف ہے اور اس مخالفت کا اظہار عوامی مظاہروں میں بھی کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، بعض حکومتی اقدامات ماضی میں لبنانی پارلیمنٹ کی منظور کردہ قانون سازی سے متصادم ہیں۔

سید رضا صدرالحسینی نے کہا کہ لبنان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور ملک کے عوام کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو ترجیح دیتے ہیں یا بیرونی دباؤ کو قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل سمیت کسی بھی بیرونی طاقت کو لبنان کے مستقبل کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں لبنان کی صورتحال خطے کی اہم ترین خبروں میں شامل رہنے کا امکان ہے اور لبنانی قیادت کو جلد ایسا فیصلہ کرنا ہوگا جو ملک میں سیاسی اور سکیورٹی استحکام کو یقینی بنا سکے۔

آخر میں صدرالحسینی نے کہا کہ خطے میں طاقت کے توازن کا تعین بالآخر لبنان اور دیگر عرب ممالک کے عوام کریں گے، اور ان کے بقول لبنان کے عوام اسرائیل کو عرب دنیا کی جانب سے قبول کی جانے والی ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha