1 جولائی 2026 - 13:06
شہید امام خامنہ ای اسلام کی سیاسی تاریخ میں یکتائے روزگار شخصیت ہیں، محمد رعد

 لبنانی پارلیمنٹ میں "وفاداری بہ مقاومت پارلیمانی گروپ" کے سربراہ نے تاکید کی کہ شہید حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ‌ای (رضوان اللہ علیہ) کی شخصیت کے بارے میں گفتگو کرنا مشکل ترین کاموں میں سے ہے کیونکہ وہ تاریخ اسلام، خاص طور پر معاصر سیاسی تاریخ میں انتہائی ممتاز مرتبے کے مالک ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ محمد رعد نے، رہبر معظم کے دفتر کی اطلاع رسانی کی ویب گاہ (Khamenei.ir) کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا: "شہید امام خامنہ‌ای (رضوان اللہ علیہ) کی شخصیت یقین، فکری مستقل مزاجی، مستضعفین کے ساتھ شفقت و مہربانی، اصولوں کی پابندی میں استحکام اور امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی وصیت کی حفاظت میں امانت داری کے ساتھ جلوہ گر ہوئی ہے جو اسلامی جمہوریہ کے بانی تھے؛ علاوہ ازیں انھوں نے عدل اور حق پر مبنی حکمرانی، اور اسلامی جمہوریہ کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لئے ایک اکمل نمونہ اور رول ماڈل فراہم کیا ہے۔"

شہید امام خامنہ ای اسلام کی سیاسی تاریخ میں یکتائے روزگار شخصیت ہیں، محمد رعد

انھوں نے مزید کہا: "یہ خصوصیات امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کو معاصر تاریخ میں اور بلکہ صدیوں پر محیط اسلامی سیاسی تاریخ میں ایک بے مثال قائد بناتی ہیں؛ ایسے قائد جو بہادر، فقیہ، مدبر، وقت شناس اور زمانے سے آگاہ، اور دوسروں کے طریقوں اور ان کے انتظامی طریقہ کار سے باخبر تھے۔

محمد رعد نے نشاندہی کی کہ امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) اسلام کی حکمرانی اور اسلامی عدل کے پابند تھے اور وہ اسلام کی اس قابلیت پر ایمان رکھتے تھے کہ وہ ایک سیاسی، تنظیمی اور جہادی نمونہ فراہم کر سکتا ہے جو انسانی حقوق کا ضامن ہو اور معاشروں میں عدل کا نفاذ کرے۔"

انھوں نے زور دے کر کہا: "دھمکیاں اور دہشت گردی کی مہمات انہیں خوفزدہ نہیں کرتی تھیں، بلکہ وہ اپنے استحکام، یقین اور اس عقیدے کے ساتھ پہچانے جاتے تھے کہ حق کے دفاع میں استقامت، دشمن کی شکست اور بڑے کارناموں کے حصول کو یقینی بناتی ہے۔

رعد نے یہ بھی نشاندہی کی کہ شہید امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) ہمیشہ اسلامی جمہوریہ کے لئے علمی اور سائنسی ترقی کے حصول کے حق کو برقرار رکھنے پر تاکید کرتے تھے تاکہ ملک کی آزادی یقینی ہو اور اسے بڑی طاقتوں کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ نقطہ نظر قومی فیصلہ سازی کے تحفظ اور استکباری طاقتوں کو ایران کی ضروریات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر داخلی معاملات میں مداخلت کرنے سے روکنے کا باعث بنا۔

لبنان کے اس رکن پارلیمان نے مزید کہا کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران جو کچھ دیکھا، حکومت کے مربوط انتظام سے لے کر سیکیورٹی، فوجی اور سیاسی تدبیر، معاشی انتظام اور عوام کا حکام سے تعلق، اس عظیم مکتب فکر کے ثمرات کا حصہ ہے جس کی شہید امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) نے اپنی قیادت کے سالوں کے دوران بنیاد رکھی۔

رعد نے کہا: "اس راستے کا ثمرہ صرف بحران کے انتظام تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ایک جامع فکری اور ثقافتی منصوبے کی تعمیر بھی شامل ہے۔"

انھوں نے کہا: "امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کے بیانات اور فرامین نے ایسی نسلوں کو تربیت دی ہے جو مقاومت کے آپشن پر ایمان رکھتی ہیں، استکبار کو ردّ کرتی ہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے مشن کے پابند ہیں۔"

انھوں نے صہیونی ریاست اور امریکہ کے ساتھ ایران کے حالیہ مقابلے کے بارے میں کہا: "اس مقابلے نے امریکہ کی صلاحیتوں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔"

رعد نے کہا: "امریکہ اس مقابلے سے خالی ہاتھ نکلا، اور اسلامی جمہوریہ اس میدان کا فاتح ٹہرا۔ اور آخرکار ایک مفاہمتی دستاویز پر دستخط ہوئے جس کی زیادہ تر شقیں اسلامی جمہوری اسلامی کے حق میں ترتیب دی گئی ہے۔"

رعد نے زور دے کر کہا: "امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کے ساتھ وفاداری، ان کے مکتب فکر کی پیروی اور ان کا مشن جاری رکھنے کے ذریعے ممکن ہے اور فلسطین اور لبنان میں مقاومت، ان کی بے دریغ حمایتوں کی مرہون منت ہے۔"

انھوں نے کہا: "رہبر انقلاب اسلامی امام شہید خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) نے فلسطینی کاز کو امت کے ضمیر میں زندہ کر دیا۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha