30 جون 2026 - 16:56
بین الاقوامی مبلغین کی امتِ مسلمہ سے رہبرِ شہید کی تشییع جنازے میں بھرپور شرکت کی اپیل

بیان میں کہا گیا ہے کہ ماہِ محرم خون کی تلوار پر فتح، قربانی، آزادی اور عزت کا پیغام دیتا ہے۔ حضرت امام حسینؑ نے اپنے ابدی قیام کے ذریعے انسانیت کو یہ درس دیا کہ اسلام کی منطق میں خون ہمیشہ تلوار پر غالب آتا ہے اور آزادی وہ عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت ہر دور کے طاغوت کے مقابلے میں ضروری ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حوزہ ہائے علمیہ کے بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی مرکز اور بین الاقوامی مبلغین نے ایک مشترکہ بیان میں دنیا بھر کے مسلمانوں، امتِ مسلمہ اور تمام آزاد انسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رہبرِ شہید کی تشییع جنازے کی تقریبات میں بھرپور اور تاریخی شرکت کرکے اسلام، وحدت اور مزاحمت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ماہِ محرم خون کی تلوار پر فتح، قربانی، آزادی اور عزت کا پیغام دیتا ہے۔ حضرت امام حسینؑ نے اپنے ابدی قیام کے ذریعے انسانیت کو یہ درس دیا کہ اسلام کی منطق میں خون ہمیشہ تلوار پر غالب آتا ہے اور آزادی وہ عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت ہر دور کے طاغوت کے مقابلے میں ضروری ہے۔

بیان کے مطابق، عصرِ حاضر میں یہی حسینی روح حضرت امام خمینیؒ کی الٰہی اور انقلابی دعوت کے ذریعے دوبارہ زندہ ہوئی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا کرتے ہوئے استکباری طاقتوں کی ظاہری ہیبت کو چیلنج کیا اور دنیا کے مظلوموں اور آزاد انسانوں کو یہ پیغام دیا کہ حقیقی عزت اور طاقت صرف حق پر استقامت اور ظالم قوتوں کے تسلط کو مسترد کرنے میں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پرچم بعد ازاں رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی مدبرانہ قیادت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے سربلند رہا اور عالمِ اسلام سمیت دنیا بھر کی مزاحمتی تحریکوں کے لیے باعثِ تحریک بنا۔ بیان میں امید ظاہر کی گئی کہ حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں یہ پرچم اپنے حقیقی وارث حضرت امام مہدیؑ کے ظہور تک محفوظ رہے گا۔

بیان کے مطابق آج دنیا پہلے سے زیادہ حق اور باطل کی کشمکش کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ مغربی ممالک میں انصاف کے حق میں اٹھنے والی آوازیں، غزہ اور فلسطین میں پیش کی جانے والی عظیم قربانیاں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی حالیہ فوجی جارحیت کے باوجود محورِ مزاحمت کی استقامت اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ باایمان قومیں عالمی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور استکبار کی ناقابلِ شکست ہونے کی سوچ کو باطل کر سکتی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آج پوری انسانیت انصاف کی متلاشی ہے، جبکہ عالمی استکبار اس بیداری سے خوفزدہ ہو کر ہر طرح کے جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، لیکن امتِ مسلمہ کی مزاحمت آزادی کی نئی صبح کی نوید دے رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہادت کا روشن راستہ آج بھی انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اسی تاریخی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے حوزہ ہائے علمیہ کے بین الاقوامی مبلغین دنیا بھر کے مسلمانوں، متحد امتِ مسلمہ اور تمام آزاد انسانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ رہبرِ شہید کی تشییع جنازے کی تقریبات میں بھرپور، تاریخی اور دشمن شکن انداز میں شرکت کریں۔

بیان کے مطابق رہبرِ شہید کی آخری رسومات میں شرکت اسلام کی عزت اور طاقت کا عالمی مظاہرہ، مزاحمت کے اصولوں سے تجدیدِ عہد، ظالم قوتوں کے خلاف واضح اعلان اور عالمی استکباری نظام کے مقابلے میں آزادیِ انسان کے عزم کا اظہار ہوگی۔

بیان کے اختتام پر امتِ مسلمہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایامِ حسینی میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اسلام کی طاقت، باوقار مظلومیت اور مکتبِ شہادت کی عظمت کو اجاگر کریں اور یہ ثابت کریں کہ حضرت امام مہدیؑ کے ظہور تک مزاحمت کا سرخ پرچم ہرگز سرنگوں نہیں ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha