30 جون 2026 - 19:03
آبی معاہدے میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا: اسلام آباد کا نئی دہلی کو سخت انتباہ

پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی یا دریائی پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ کو اسلام آباد اپنی قومی سلامتی کے خلاف اقدام اور جنگ کے مترادف سمجھے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی اور پابند معاہدہ ہے جسے کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر منسوخ، معطل یا تبدیل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کی "شہ رگِ حیات" اور قومی سلامتی کا بنیادی جز ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

عطاءاللہ تارڑ کے مطابق عالمی برادری بھی پاکستان کے آبی حقوق کو تسلیم کرتی ہے اور اس مؤقف کی حمایت کرتی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اپنی اصل حالت میں برقرار رہے گا اور اس میں کسی بھی تبدیلی کے لیے دونوں فریقین کی رضامندی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان منگل کے روز اس معاہدے پر ایک بین الاقوامی سیمینار کی میزبانی کرے گا جس میں دنیا بھر سے آبی و قانونی ماہرین شریک ہوں گے۔

واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت راوی، بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کو جبکہ سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کو حق دیا گیا تھا۔

بعد ازاں بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے اعلان اور بعض بھارتی وزرا کے بیانات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی حکام نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تبدیلی کو دشمنی پر مبنی اقدام سمجھا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کی بڑی آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، اس لیے پانی کی فراہمی میں کسی بھی رکاوٹ سے ملک کی غذائی سلامتی اور معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha