بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سی این این کے مطابق، 'اس جنگ نے خلیجی رہنماؤں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ طویل مدتی مفاہمت کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے سوچیں۔'
سی این این نے لکھا:
- (جنوبی) خلیج فارس میں ٹرمپ کے عرب اتحادی پریشان ہیں کہ اس کا ایران کے ساتھ معاہدہ ایک "المناک تاریخی موڑ" ہو سکتا ہے۔ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے رہنما کئی دہائیوں تک، امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک اسٹراٹیجک تعاون سمجھتے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا نقطہ نظر اکثر و بیشتر مختلف تھا۔ [وہ ان امراء، بادشاہوں اور شیوخ کو عام طور پر دودھ دینے والی گائے کا عنوان دینا پسند کرتا تھا۔
- ٹرمپ نے 2018 میں سعودی عرب کے بادشاہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے اور اس تعلق کے بارے میں ایک زیادہ دلالانہ نقطہ نظر کا خلاصہ کرکے پیش کیا جس کو خلیج کے عرب راہنماؤں نے طویل عرصے سے اپنی سلامتی کا سنگ بنیاد سمجھا تھا، اور کہا:
"اے بادشاہ، ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ تم ہمارے بغیر دو ہفتے بھی وہاں نہیں رہ سکتے۔ تمہیں اپنی فوج کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔"
سی این این نے یمن پر مسلط کردہ سعودی اتحاد کی جنگ کے عروج پر سعودی عرب میں آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر انصاراللہ یمن کے حملے کو ایک بار پھر ایران سے منسوب کیا؛ ایک جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ جسے یمنی اور ایرانی حکام نے کئی بار مسترد کیا تھا۔
سی این این نے لکھا:
- ایک سال بعد (یعنی 2019 میں)، سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر پچھلی کئی دہائیوں کے دوران کا سب سے بڑا حملہ برداشت کرنا پڑا، جب تیل کی کلیدی تنصیبات پر حملوں نے عارضی طور پر اس بادشاہی حکومت کے خام تیل کی تقریباً نصف پیداوار تباہ ہو گئی اور تیل کی عالمی قیمتوں میں شدید اضافہ ہؤا۔ گو کہ واشنگٹن ایران کو قصوروار ٹھہرا رہا تھا اور حملے کی مذمت کر رہا تھا، خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو تہران کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ کی تیاریوں کی سطح کے بارے میں مسلسل سوالات کا سامنا کرنا پڑا!
- ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت میں، خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے رہنماؤں کو یہ بات سمجھ آگئی تھی۔ جس وقت خلیج فارس کی ریاستوں نے امریکی معیشت میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا، ٹرمپ نے اس خطے کو اپنے پہلے سرکاری بیرونی دورے کے لیے منتخب کیا۔ امریکی صدر نے مئی (2025ع) میں خلیج فارس کے دورے کے دوران قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اعلان کیا:
"ہم اس ملک کی حفاظت کریں گے۔"
- یہ امریکی وعدہ اس سال سب سے بڑی آزمائش سے دوچار ہؤا۔ خلیج فارس کی ریاستوں کی علاقائی تنازع کو روکنے کی کوششوں کے باوجود، امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ایک جنگ شروع کی؛ ایران نے خلیج فارس کے پورے خطے میں [بظاہر ان ریاستوں کے لئے قائم کردہ امریکی اڈوں] پر جوابی حملے کئے اور علاقائی حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ ایک بار پھر اس سوال کا سامنا کریں کہ امریکی تحفظ کا اصل میں مطلب کیا ہے؟
- امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل (24 جون 2026ع) کو خطے کے دورے پر آیا۔ اس کو امریکی صدر کی جانب سے، خلیج فارس کے ان عرب ریاستوں کو یہ باور کرانے کی بھاری اور مشکل ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ ان کے ساتھ "واشنگٹن کا سیکیورٹی عہد اب بھی قائم ہے!"
- تاہم، خلیج فارس کے بہت سے لوگوں کے لئے، موجودہ سوال یہ نہیں ہے کہ "کیا واشنگٹن ان کی سلامتی کا پابند ہے یا نہیں؟" بلکہ سوال یہ ہے کہ "کیا ایران کے ساتھ ان کا ابھرتا ہؤا معاہدہ انہیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بہتر یا بدتر صورت حال میں لے جائے گا یا نہیں؟"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مهدی عباس زادہ
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ