اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حزب مؤتلفہ اسلامی کے بین الاقوامی امور کے شعبے کی جانب سے ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارٹی کے بین الاقوامی امور کے عہدیداروں کے علاوہ امریکی فوج کے سابق اہلکار اور تجزیہ کار کی نکولس اوکیف نے خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی۔
اجلاس میں ادارۂ افق نو سے وابستہ ڈاکٹر اسلاملو نے ترجمانی کے فرائض انجام دیے۔ نشست کے دوران حزب مؤتلفہ اسلامی کی تاریخ اور بین الاقوامی سرگرمیوں، سرمایہ دارانہ نظام، غزہ کی صورتحال اور مغرب کے تاریخی حقائق پر گفتگو کی گئی۔
حزب مؤتلفہ اسلامی کا تعارف
حزب مؤتلفہ اسلامی کے بین الاقوامی امور کے نائب مہدی تہران نے شرکا اور ادارۂ افق نو کے اراکین کو خوش آمدید کہا اور ایران کی سیاست میں پارٹی کے کردار اور تاریخ پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ حزب مؤتلفہ اسلامی کا بین الاقوامی امور کا شعبہ مختلف سیاسی جماعتوں اور گروہوں کے ساتھ رابطے رکھتا ہے، جبکہ بین الاقوامی تنظیموں میں بھی فعال طور پر کام کر رہا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام جنگوں کو بڑھاتا ہے، اوکیف
کی نکولس اوکیف نے مغربی ممالک کے حکمران نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام رکھنے والے ملکوں میں سرمایہ منڈی کے پھیلاؤ کا جنگوں سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اندرونی دشمن بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ بیرونی دشمن کا مقابلہ نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ عام بیانیے کے برعکس حقائق بیان کریں۔

طوفان الاقصیٰ نے صہیونی رژیم کا چہرہ دنیا کے سامنے لایا
اوکیف نے سات اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کو عالمی سطح کا اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد غزہ میں خواتین اور بچوں پر ہونے والے مظالم دنیا کے سامنے زیادہ واضح ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ بعض ذرائع ابلاغ نے حماس کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی، لیکن سات اکتوبر کے بعد صہیونی رژیم کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا۔
انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف صہیونیوں کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی فلسطینیوں کو بنیادی انسانی حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق اگر سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ موجود نہ ہوتے تو غزہ میں جاری نسل کشی کے بہت سے مناظر دنیا تک نہ پہنچتے۔
ہولوکاسٹ اور مغربی میڈیا سے متعلق متنازع دعوے
اوکیف نے اپنے خطاب میں ہولوکاسٹ اور دوسری جنگ عظیم کے بارے میں متنازع دعوے بھی کیے۔ انہوں نے ہولوکاسٹ میں یہودیوں کی ہلاکتوں کے تسلیم شدہ اعداد و شمار پر سوال اٹھایا اور کہا کہ یورپ میں اس موضوع پر مختلف رائے رکھنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مغربی ذرائع ابلاغ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ میڈیا بعض معاملات میں یک طرفہ بیانیہ پیش کرتا ہے۔
نائن الیون سے متعلق بے بنیاد دعوے
امریکی فوج کے سابق اہلکار نے نائن الیون کے واقعات کے بارے میں بھی ایسے دعوے کیے جن کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے ان واقعات کو افغانستان، عراق اور ایران میں مغربی مداخلت سے جوڑنے کی کوشش کی۔
ایران کو محاذِ مزاحمت کی حمایت جاری رکھنے کا مشورہ
اجلاس کے اختتام پر کی نکولس اوکیف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام سے کہا کہ وہ محاذِ مزاحمت میں شامل گروہوں کی حمایت جاری رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ایران کے اسلحہ ذخائر کی تفصیلات معلوم نہیں، تاہم ان کے خیال میں یہ ذخائر کافی ہیں۔ اوکیف نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ہیں اور ضرورت پڑنے پر صہیونی رژیم کے خلاف لڑنے کے لیے میدان میں آنے کو بھی تیار ہیں۔
آپ کا تبصرہ