22 جون 2026 - 16:48
ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے پر واشنگٹن اور تل ابیب میں شدید اختلافات

فائننشل ٹائمز نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے عارضی معاہدے نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکمت عملی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور اس کے نتیجے میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات نمایاں ہو گئے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار فائننشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے عارضی معاہدے نے نہ صرف نیتن یاہو کے مشترکہ جنگی منصوبوں کو ناکام بنا دیا بلکہ یہ بھی ظاہر کر دیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کے سکیورٹی خدشات کو خاطر میں نہیں لایا۔ رپورٹ کے مطابق نئے معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروہوں کی حمایت جیسے موضوعات شامل نہیں، جسے تل ابیب کے لیے ایک "تزویراتی دھچکا" قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے لبنان میں جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے پر توجہ مرکوز رکھی، جبکہ ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنے اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے جیسے اسرائیلی مطالبات معاہدے کا حصہ نہیں بن سکے۔

فائننشل ٹائمز کے مطابق ایران لبنان کے محاذ اور آبنائے ہرمز سے متعلق دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی اور اپنے مالی اثاثوں کی بحالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بعض سابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پہلے سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں ایران کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے جبکہ نیتن یاہو کی سیاسی اور سفارتی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اور ذاتی اختلافات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے قریبی حلقوں نے ٹرمپ اور ان کے نمائندوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

فائننشل ٹائمز نے اسرائیل میں ہونے والے بعض سرویز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگی ماحول ٹھنڈا پڑنے کے بعد صرف 11 فیصد اسرائیلی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ کشیدگی میں کامیاب رہا، جو حکومت، فوج اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha