اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر اینڈی کم نے ایران کے ساتھ جنگ اور بعد ازاں ہونے والے معاہدے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے ایران کو کمزور کرنے کے بجائے مزید طاقتور بنا دیا ہے۔
سینیٹر اینڈی کم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک غیر ضروری اور خطرناک جنگ میں دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں امریکہ پہلے سے زیادہ مشکل صورتحال کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے لکھا، "ٹرمپ نے ہمیں ایران کے ساتھ ایک غیر محتاط جنگ میں جھونک دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ کی پوزیشن مزید کمزور ہو گئی۔
اینڈی کم کے مطابق اس جنگ میں 13 امریکی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، امریکی اسلحہ کے ذخائر متاثر ہوئے، جبکہ امریکہ کی توجہ اس کے اہم اسٹریٹجک ہدف یعنی بحرالکاہل اور ہند و بحرالکاہل کے خطے سے ہٹ گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث امریکی عوام کو تقریباً 60 ارب ڈالر کے اضافی معاشی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈیموکریٹ سینیٹر نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں ایران کی طاقت اور اثر و رسوخ میں مزید اضافہ کرے گا اور اسے اقتصادی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز میں اس کے کردار سے متعلق کئی بنیادی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔
اینڈی کم کا کہنا تھا کہ معاہدے کی موجودہ شکل امریکہ کے طویل المدتی قومی مفادات کے حوالے سے سنجیدہ خدشات کو جنم دیتی ہے اور اس پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔
آپ کا تبصرہ