اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ واشنگٹن کی اسٹریٹجک کامیابی نہیں بلکہ اپنے ابتدائی اہداف سے پسپائی کی علامت ہے۔
اداریے میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑھتے ہوئے اندرونی سیاسی دباؤ اور فوجی کارروائیوں سے وابستہ خطرات کے باعث اپنے مؤقف میں نرمی لانے پر مجبور ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اسرائیلی دباؤ کے باوجود ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی، اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے کھولنے کی کوشش کی۔
اخبار نے معاہدے کی بعض شقوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس میں کئی اہم معاملات کی واضح تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خود ٹرمپ نے بھی بعض نکات کو "عمومی تصورات" قرار دیا ہے، جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق پیچیدہ مسائل کو آئندہ ساٹھ روزہ مذاکرات کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی تیل برآمدات کی بحالی سے تہران کو نمایاں مالی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جبکہ اس کے جوہری اور دفاعی پروگراموں کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔
اخبار کے مطابق معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادیوں سے متعلق معاملات کو بھی براہِ راست شامل نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں آئندہ علاقائی مذاکرات کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔
دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ایران نے معاشی اور فوجی دباؤ کے باوجود مزاحمت کی صلاحیت برقرار رکھی ہے، جس سے پابندیوں یا عسکری دھمکیوں کے ذریعے اس پر دباؤ ڈالنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
اسی طرح پولیٹیکو نے اپنی رپورٹ میں جنگ کے معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہوئی، جس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے۔
فارن پالیسی نے اپنے تجزیے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ ان کا سیاسی مستقبل خطے میں جاری تنازعات کے نتائج سے جڑا ہوا ہے، جبکہ زمینی حقائق نے ان کے بعض اعلانیہ اہداف کو چیلنج کیا ہے۔
یہ تمام تجزیے متعلقہ ذرائع ابلاغ کی آراء اور تشریحات پر مبنی ہیں، جن پر مختلف حلقوں میں مختلف مؤقف پایا جا سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ