اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے حتمی دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ مشترکہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں دونوں فریقوں کے وفود کے سربراہان کی ملاقات متوقع ہے، جہاں مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔ اس کے بعد آئندہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ شروع ہوگا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ شب ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی ہے جس کے بعض حصوں پر فوری عمل درآمد شروع ہو جائے گا، جبکہ دیگر نکات حتمی دستخطوں کے بعد نافذ ہوں گے۔
انہوں نے اس معاہدے کو اقتصادی مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ پیش رفت ملکی معیشت کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم ایران اپنی اقتصادی پالیسیوں کو صرف ایسے معاہدوں پر منحصر نہیں کرے گا۔
سید عباس عراقچی نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو سابقہ معاہدوں میں وعدہ خلافیوں اور عدم عمل درآمد کا سامنا رہا ہے، اسی لیے مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے نفاذ کی منصوبہ بندی احتیاط اور عدم اعتماد کے اصول پر کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ عمل دو مراحل پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں مفاہمتی یادداشت نافذ ہوگی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ساٹھ روزہ مذاکرات ہوں گے جن کی مدت ضرورت پڑنے پر بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت اور ممکنہ اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اب تک نصف راستہ طے ہو چکا ہے، جبکہ باقی مرحلہ زیادہ مشکل اور حساس ہوگا۔ ایران کی سفارتی کوششوں کا مقصد ملک کے مفادات کا تحفظ اور عوام کے حقوق کا دفاع ہے۔
آپ کا تبصرہ