16 جولائی 2026 - 17:12
مآخذ: ابنا
لبنانی حکومت دشمن کے جرائم میں شریک، ہتھیار ڈالنے کا معاہدہ نافذ نہیں ہونے دیں گے

، لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے وفاداری بہ مزاحمت بلاک کے سینئر رکن حسن فضل اللہ نے لبنانی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دشمن کے جرائم میں شریک بن چکی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے وفاداری بہ مزاحمت بلاک کے سینئر رکن حسن فضل اللہ نے لبنانی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دشمن کے جرائم میں شریک بن چکی ہے اور حزب اللہ کسی بھی صورت "ہتھیار ڈالنے کے معاہدے" کو نافذ نہیں ہونے دے گی۔

حسن فضل اللہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے گزشتہ عرصے میں صدر جوزف عون کے ساتھ اختلافات سے گریز کیا، تاہم ان کے مسلسل بیانات، مزاحمت کے خلاف مؤقف اور صدارتی محل کو مزاحمت مخالف پلیٹ فارم بنانے کے باعث کئی حقائق عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوزف عون کی بطور صدر حمایت اس یقین دہانی پر کی گئی تھی کہ وہ 27 نومبر کے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد، اسرائیلی حملوں کا خاتمہ، لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا، بے گھر افراد کی واپسی، قیدیوں کی رہائی اور ملک کی تعمیر نو کو یقینی بنائیں گے، تاہم ان وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا۔

فضل اللہ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود گزشتہ 15 ماہ کے دوران اسرائیلی حملے اور تباہی کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ حکومت کی تمام تر توجہ صرف مزاحمت کو غیر مسلح کرنے پر مرکوز رہی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ لبنانی حکومت نے ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات کو بھی نقصان پہنچایا، ایرانی شہری پروازوں کی معطلی اور ایران کے سفیر کے خلاف اقدامات اسی پالیسی کا حصہ تھے۔

حسن فضل اللہ نے مزید کہا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد حکومت نے مزاحمت کو مجرمانہ قرار دے کر دشمن کے مؤقف کو تقویت دی، جس سے اسرائیلی کارروائیوں کو جواز فراہم ہوا۔ ان کے بقول حکومت کا حالیہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری، قومی فوج کے کردار اور عوامی مفادات کے خلاف ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ اور لبنان کی بڑی قومی قوتیں اس معاہدے کو مسترد کرتی ہیں اور اسے کسی صورت نافذ نہیں ہونے دیں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha