بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی این بی سی نیوز میگزین نے پینٹاگون کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے صہیونی ریاست کی طرف سے ریاستہائے متحدہ کے خلاف جاسوسی کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرے کی سطح کو ممکنہ بلند ترین درجے، یعنی "بُحرانی (Critical) سطح تک بڑھا دیا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ایران کے ساتھ جنگ کے انتظام کے طریقہ کار پر بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد ہؤا ہے اور اس نے اسرائیلیوں کی طرف سے اعلیٰ امریکی حکام کی ٹارگیٹڈ اور مربوط کوششوں کے بارے میں خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، ڈی آئی اے (Defense Intelligence Agency [DIA]) کی نئی تشخیص میں سات صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شامل ہے جس میں تجزیاتی چارٹ بھی ہیں، جن میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ انسانی جاسوسی کارروائیوں اور تکنیکی انٹیلیجنس اکٹھا کرنے میں اسرائیل کی صلاحیت "بحرانی سطح" تک پہنچ گئی ہے۔ اس دستاویز میں مخصوص واقعات کے ایک سلسلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس نے امریکی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی ذرائع نے اعلیٰ امریکی حکام کی بامقصد نگرانی کے لئے اسرائیلی کوششوں کو اس خطرے کی الرٹ کی سطح میں اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے کیونکہ اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں ـ مشرق وسطیٰ کے تنازعات، خاص طور پر ایران کے ساتھ جنگ، کے سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی مباحثوں اور فیصلہ سازی کے عمل کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔
یہ صورتحال ایسے موقع پر پیش آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تعلقات گذشتہ ہفتوں میں [بظاہر] شدت سے کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اخباری ذرائع نے گذشتہ ہفتے دونوں فریقوں کے درمیان ایک تناؤ بھری ٹیلیفونک گفتگو کی رپورٹ دی ہے جس میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو "پاگل" کہا تھا۔
رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اس بات سے پریشان ہے کہ اسے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات کے عمل سے باہر رکھا جائے؛ اور اسی وجہ سے وہ جاسوسی کارروائیوں کے ذریعے فوجی تصادم جاری رکھنے یا ختم کرنے کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے اگلے ارادوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے، ٹرمپ جنگ ختم کرنے کے لئے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کا خواہاں ہے، جبکہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی پابندی کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور ایران کے خلاف حملوں کے دوبارہ آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاستہائے متحدہ نے اسرائیل میں اپنے عہدیداروں کے دوروں کے دوران زيادہ شدید احتیاطی تدابیر اختیار کر لی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، اعلیٰ امریکی عہدیدار اسرائیلیوں کے سرکاری دوروں کے دوران اکثر ڈسپوزایبل فون اور کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں اور ہوٹل کے کمروں میں بات کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتتے ہیں۔ اس بارے میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا: "اسرائیل جارحانہ انٹیلیجنس اکٹھا کرنے کے حوالے سے بدنام ہے۔"
ادھر واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے پینٹاگون کی رپورٹ کی شدت سے تردید کی اور ایک بیان میں اعلان کیا: "اسرائیل امریکی اداروں کے بارے میں خفیہ معلومات اکٹھا نہیں کرتا، چہ جائے کہ امریکی حکومتی عہدیداروں کے بارے میں۔ اسرائیل کی انٹیلیجنس کوششیں ہمارے دشمنوں پر مرکوز ہیں، ہمارے اتحادیوں پر نہیں!! اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ یا تو غلط ہے یا اس کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں!"
وائٹ ہاؤس کے ایک [اسرائیل نواز] عہدیدار نے بھی مختصر تبصرے میں کہا: "یہ کہانی مکمل طور پر غلط ہے اور اس کا ایک ذریعہ ہے جسے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: آزادہ شاہچراغی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ