اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،صہیونی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان کے محاذ پر اسرائیل کو حزب اللہ کے خلاف شدید مشکلات کا سامنا ہے اور موجودہ صورتحال تین ماہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ خراب ہو چکی ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے فوجی تجزیہ کار نیر دووری نے حکومت اور فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جاری جنگ اسرائیل کی دفاعی طاقت اور کامیابیوں کو کمزور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن حزب اللہ مسلسل اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی بکتر بند یونٹ کا ایک کمانڈر بھی جنوبی لبنان میں مارا گیا۔
تجزیہ کار کے مطابق حزب اللہ کے حملے پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں اور امریکی اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود زمینی حقیقت میں کوئی جنگ بندی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل مکمل طور پر امریکہ پر انحصار کرتا ہے، جبکہ ایران اور حزب اللہ امریکی فیصلوں کو خاطر میں نہیں لاتے، جس سے اسرائیل کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور لبنان کے محاذ ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں اور اسرائیل کو خدشہ ہے کہ غزہ بھی اس صورتحال کا حصہ بن سکتا ہے، جس کے بعد اسرائیل کسی بھی محاذ پر اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائے گا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے ڈرون حملے اسرائیلی فوج کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج کے 68 فیصد ہلاکتیں اور 90 فیصد زخمی حزب اللہ کے ڈرون حملوں کا نتیجہ ہیں۔
صہیونی میڈیا کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اب تک 400 سے زائد ڈرون حملے کر چکی ہے، جنہوں نے اسرائیلی ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق حزب اللہ کے فائبر آپٹک ڈرونز نے اسرائیلی دفاعی نظام کی کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں اور اسرائیلی فوج و سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملے اب تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف فوجی نقصان بڑھ رہا ہے بلکہ اسرائیل کی تکنیکی برتری کا تاثر بھی متاثر ہو رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ