اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان کی فوج کو نشانہ بنانے کے حالیہ حملے نے لبنان میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، جبکہ سیاسی و عسکری مبصرین نے اس حملے کو کئی اہم پیغامات سے جوڑا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ مذاکرات کے چند روز بعد اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو افسران اور ایک اہلکار ہلاک ہو گئے۔
لبنانی فوج نے اس حملے کو جنگ بندی کی کوششوں اور خطے میں استحکام کو ناکام بنانے کی کوشش قرار دیا۔ فوج کا کہنا تھا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے ایسے حملے کر رہا ہے۔
اس واقعے کے بعد لبنان بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ لبنانی صدارت نے حملے کو ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
سیاسی تجزیہ کار واصف عواده نے کہا کہ اسرائیل اس حملے کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ لبنان میں کوئی بھی محفوظ نہیں اور تمام لبنانی اس کے نشانے پر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا پیغام لبنانی فوج کے لیے ہے، کیونکہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ لبنانی فوج حزب اللہ سے دور رہے یا اس کے خلاف کارروائی سے انکار کرے۔
ایک اور لبنانی تجزیہ کار نبیل بومنصف نے کہا کہ یہ حملہ انتہائی حساس وقت میں کیا گیا، جب لبنانی فوج کو حالیہ معاہدوں کے تحت اہم ذمہ داریاں دی جا رہی تھیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کا یہ اقدام مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنانی حکام کو موجودہ مذاکرات پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اپنی شرائط پوری ہونے تک مذاکرات معطل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
سیاسی محقق علی احمد نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنانی فوج کو نشانہ بنانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ حملے طویل عرصے سے جاری ہیں۔ ان کے مطابق لبنانی فوج نے اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف قومی موقف اختیار کیا، جس سے اسرائیل اور امریکہ دونوں ناخوش ہیں۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال لبنان میں مزید تقسیم اور اسرائیلی حملوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ