6 جون 2026 - 13:53
مولانا کلب جواد نقوی کا علماء کے ہمراہ بڑا امام باڑہ اور ٹرسٹ کی املاک کا جائزہ

تقدس کی پامالی اور امام بارگاہوں میں فحش حرکات کے خلاف آج علمائے کرام مولانا کلب جواد نقوی کے ساتھ، لکھنؤ کے بڑے امام باڑے کا جائزہ لینے پہنچے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عبادت گاہوں کی بے حرمتی، تقدس کی پامالی اور امام بارگاہوں میں فحش حرکات کے خلاف آج علمائے کرام مولانا کلب جواد نقوی کے ساتھ، لکھنؤ کے بڑے امام باڑے کا جائزہ لینے پہنچے۔

اس موقع پر مولانا کلب جواد نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ نے ہماری عبادت گاہوں کے تقدس کے لیے وعدے کے مطابق اب تک کوئی اقدام نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلع مجسٹریٹ نے کہا تھا کہ کہ امام باڑے میں داخلے کے لیے مذہبی عمارتوں کے تقدس کا خیال رکھا جائے گا مگر ہم یہاں دیکھ رہے ہیں کہ تقدس پامال ہو رہا ہے۔

مولانا نے کہا کہ بڑے امام باڑے میں سیاح مذہبی عمارتوں کے تقدس کو پامال کرتے نظر آئے اور وہاں کوئی ضابطہ نافذ نہیں تھا۔ ہر طرف امام باڑے میں بدتر صورت حال تھی؛ حتیٰ کہ مذہبی عمارتوں کے رکھ رکھاؤ میں بھی بدنظمی اور لاپرواہی ہے۔

مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ سے مذہبی عمارتوں کے تقدس کے تحفظ کے لیے ہم نے جو مطالبات کیے تھے انکو پورا ہونا چاہیے، کیونکہ ہم اپنی عبادت گاہوں کی بے حرمتی برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہماری مذہبی عمارتوں کے تقدس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت جلد اس بارے میں ہم بڑے اور اہم فیصلے لیں گے۔

مولانا سیف عباس نقوی نے کہا کہ عبادت گاہوں کے تقدس کا خیال ضروری ہے؛ لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پارکنگ کا کام تو رک گیا ہے مگر جو پتھر سڑک کے توڑے گئے تھے ان کی مرمت ابھی تک نہیں ہوئی۔

مولانا نے کہا کہ عید غدیر اسلام کی سب سے بڑی عید ہے، لیکن عید غدیر پر بھی ہماری مذہبی عمارتوں میں رونق نہیں ہوتی، لہٰذا عید غدیر کے موقع پر ٹرسٹ کے زیر انتظام تمام عمارتوں میں چراغاں ہونا چاہیے، تاکہ رونق رہے۔

علماء نے سب سے پہلے امام باڑے کے اندر فاتحہ خوانی کی اور اس کے بعد امام باڑے کا جائزہ لیا۔

بعد ازاں علماء گھنٹہ گھر اور اطراف کا جائزہ لینے پہنچے۔ وہاں دوکانداروں نے مولانا کلب جواد نقوی کو اپنے مطالبات میمورنڈم کی صورت میں دئیے ۔

دوکانداروں کا کہنا ہے کہ غریبوں کی دکانیں اُجاڑ دی گئیں مگر امیروں کے ریسٹورنٹ موجود ہیں ۔

مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ غریب دوکانداروں کے خلاف کی گئی کاروائی قابلِ مذمت ہے۔ اگر یہاں غریبوں کی دکانیں نہیں ہوسکتیں تو امیروں کے ریسٹورنٹ بھی بند ہونے چاہئیں۔

مولانا نے کہا کہ ٹنڈے کبابی کا ریسٹورنٹ کھلا ہے، جبکہ بڑے امام باڑے کے نوبت خانے کو غریبوں سے خالی کروا کر اے ایس آئی کو دیدیا گیا، یہ غریبوں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔

مولانا سیف عباس نے بھی غریب دوکانداروں کی دکانیں اُجاڑنے کی مذمت کی اور کہا کہ جب یہاں ٹنڈے کبابی کا ریسٹورنٹ چل سکتا ہے تو غریبوں کی دکانیں کیوں نہیں چل سکتیں؟

اس موقع پر مولانا کلب جواد نقوی کے ساتھ مولانا سیف عباس نقوی، مولانا فرید الحسن، مولانا مصطفیٰ علی خاں، مولانا محمد مشرقین، مولانا رضا عباس، مولانا شوکت عباس، مولانا سہیل عباس، مولانا تفسیر حسین، مولانا محمد شفیق، مولانا افضل حیدر اور دیگر افراد موجود تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha