اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ابو مجاہد العساف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کتائب حزب اللہ ان گروہوں کے ہتھیاروں کی منتقلی اور تنظیمِ نو کے عمل میں تعاون کے لیے تیار ہے جو عسکری سرگرمیوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کریں۔
انہوں نے بتایا کہ کتائب حزب اللہ خصوصی نوعیت کے فوجی ساز و سامان، جن میں خودکش ڈرون، کروز میزائل اور بکتر شکن ہتھیار شامل ہیں، اپنی تحویل میں لینے اور اس کے عوض متعلقہ گروہوں کو مالی ادائیگی کرنے پر آمادہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقتدیٰ صدر نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ سرایا السلام کو سرکاری اداروں کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر مسلح گروہوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں ختم کر کے ہتھیار ریاست کے حوالے کریں۔
ابو مجاہد العساف نے اپنے بیان میں امریکہ اور برطانیہ کے سفیروں کے بعض مؤقف پر بھی تنقید کی اور عراقی پارلیمان کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ ملکی داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کا راستہ روکیں۔
انہوں نے بعض عراقی سیاست دانوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرونی حملوں کے مقابلے میں قومی خودمختاری کے دفاع کے بجائے مزاحمتی گروہوں کے خلاف بیانات دینے میں زیادہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق کتائب حزب اللہ کا یہ اقدام عراق کے غیر سرکاری عسکری ڈھانچے میں اپنے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب بعض سیاسی قوتیں مسلح گروہوں کے مکمل انضمام یا خاتمے کی حمایت کر رہی ہیں، کتائب حزب اللہ جدید عسکری ساز و سامان کو اپنی تحویل میں لے کر اپنی عملی صلاحیت برقرار رکھنے کی خواہاں دکھائی دیتی ہے۔
آپ کا تبصرہ