31 مئی 2026 - 16:28
رہنما شرعی کونسل حزب اللہ: مزاحمت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی، چاہے عاشورائی معرکہ ہی کیوں نہ درپیش ہو

شیخ یزبک نے لبنانی حکومت کو شہریوں کے تحفظ اور ملکی خودمختاری کے دفاع کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے دشمن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد کئی ماہ تک صبر اور ضبط کا مظاہرہ کیا، لیکن مسلسل حملوں اور معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں یہ صبر لامحدود نہیں ہو سکتا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شیخ محمد یزبک نے اپنے حامیوں اور مزاحمتی خانوادوں کے نام پیغام میں واضح کیا ہے کہ حزب اللہ اپنے اصولی مؤقف سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگی اور اپنے مطالبات پر بدستور قائم رہے گی، خواہ اس راہ میں "حسینی طرز کی قربانی اور مقابلے" کا مرحلہ ہی کیوں نہ آ جائے۔

شیخ محمد یزبک نے کہا کہ حزب اللہ کے بنیادی مطالبات میں صہیونی حملوں کا مکمل خاتمہ، لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی افواج کا انخلا، بے گھر شہریوں کی اپنے علاقوں میں واپسی، قیدیوں کی آزادی، تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور بعد ازاں قومی دفاعی حکمتِ عملی پر مذاکرات شامل ہیں۔ ان کے بقول یہ مطالبات غیر متزلزل ہیں اور حزب اللہ ان سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے مزاحمتی مجاہدین اور ان کے اہل خانہ کی استقامت و قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں "حسینی سپاہی" اور "وطن کے معمار" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کا راستہ عزت، سربلندی اور کامیابی کا راستہ ہے اور مجاہدین کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

شیخ یزبک نے لبنانی حکومت کو شہریوں کے تحفظ اور ملکی خودمختاری کے دفاع کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے دشمن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد کئی ماہ تک صبر اور ضبط کا مظاہرہ کیا، لیکن مسلسل حملوں اور معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں یہ صبر لامحدود نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لبنان کے اندر بعض حلقے مزاحمت کو غیر قانونی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ ایسے اقدامات عملی طور پر صہیونی مفادات کو تقویت پہنچاتے ہیں۔

پیغام کے اختتام پر شیخ محمد یزبک نے ایران اور اس کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے "تیسری آزادی" کے قریب آنے کی امید ظاہر کی، جسے مبصرین جنوبی لبنان کی آئندہ سیاسی و عسکری صورتحال کی جانب اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha