بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوزایجنسی ـ ابنا؛ دو امریکی سابق فوجی اہلکاروں، سابق اسپیشل فورسز کے انتونیو ایگیلر (Antonio Aguilar) اور سابق میرین میلکم نانس (Malcolm Nance) نے مقبوضہ فلسطین میں تل ابیب کے قریب واقع شہر بیت شمش ہونے والے زبردست دھماکے پر علیحدہ علیحدہ جائزے پیش کئے ہیں۔ دونوں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ پرانے ہتھیاروں کا کنٹرول شدہ دھماکہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے فوجی ماحول میں پیش آیا جو اسرائیل کے میزائل اور دفاعی نظام سے منسلک ہے۔
ایگیلر کے مطابق، یہ دھماکہ غالباً کسی راکٹ یا میزائل کی جانچ کے دوران پیش آنے والا ایک تکنیکی مگر "تشریح طلب واقعہ" ہے۔ دوسری طرف میلکم نانس نے مزید تفصیل میں جاتے ہوئے کہا کہ دھماکے کی نوعیت، خاص طور پر دھوئیں کا لمبا ستون اور مسلسل آتشزدگی، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ ٹھوس ایندھن والے میزائل انجن یا بیلسٹک میزائل کے کثیر المرحلہ نظام کی ناکامی تھی، نہ کہ عام دھماکہ خیز مواد کا حادثہ۔
دونوں ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دھماکہ خالصتاً ایک فوجی-صنعتی تنصیب میں ہؤا، جو ممکنہ طور پر اسرائیل کے بیلسٹک میزائل، "ایرو" جیسے اینٹی بیلسٹک سسٹمز، یا "جیریکو" پروگرام سے متعلق تھا۔ یہ کوئی بے ترتیب یا غیر فوجی علاقے کا حادثہ نہیں تھا۔
ایگیلر نے دو دیگر امکانات یعنی اسلحہ ڈپو میں دھماکہ یا ممکنہ تخریب کاری کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا، جبکہ نانس نے تخریب کاری کو عملی طور پر انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے اسے کم ترجیح دی اور اسلحہ ڈپو والے نظریئے کو بھی دھماکے کی نوعیت سے مطابقت نہ رکھنے کی بنا پر مسترد کیا۔
بالآخر، ایگیلر نے مجموعی صورت حال کو "ابھرتا ہؤا لیکن بکھرا ہؤا تناؤ" قرار دیا جو جنگ کی شکل اختیار کئے بغیر خطرناک حدوں کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ نانس نے اسے "زیرِ آستین فعال جنگ" (Active Sub-threshold Warfare) کا نام دیا — ایک ایسی مستحکم صورتحال جہاں براہِ راست تصادم کے بغیر، غیرمعمولی ہتھکنڈوں اور خطرناک میزائل ٹیسٹوں کے ذریعے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ