اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل اور وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایت کا مسئلہ امریکی ریپبلکن پارٹی کے اندر شدید اختلافات کا سبب بن گیا ہے، حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں بھی تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔
پولیٹیکو کی جانب سے جاری سروے کے مطابق، ٹرمپ کے سخت گیر حامیوں یعنی "ماگا" ووٹرز میں تقریباً نصف اب بھی اسرائیل اور نیتن یاہو حکومت کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ٹرمپ کے دیگر حامیوں میں یہ شرح صرف 29 فیصد رہ گئی ہے۔
سروے کے مطابق، 41 فیصد ماگا حامی غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو جائز قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر ٹرمپ حامیوں میں یہ شرح 31 فیصد ہے۔
رپورٹ میں ریپبلکن ووٹرز کے درمیان واضح نسلی اور عمرانی تقسیم کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ 35 سال سے کم عمر ٹرمپ حامیوں میں تقریباً نصف کا خیال ہے کہ امریکہ کو اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا چاہیے، جبکہ 55 سال سے زائد عمر کے ووٹرز میں صرف 13 فیصد اس رائے کے حامی ہیں۔
پولیٹیکو کے مطابق، 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد ریپبلکن پارٹی اسرائیل کی حمایت پر متحد نظر آتی تھی، لیکن ایران جنگ اور "امریکہ فرسٹ" پالیسی پر بڑھتی بحث کے بعد اختلافات نمایاں ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹاکر کارلسن، اسٹیو بینن اور مارجوری ٹیلر گرین جیسی شخصیات نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مداخلت اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات پر کھل کر تنقید کی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اختلافات 2026 کے وسط مدتی انتخابات اور 2028 کے صدارتی انتخابات پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ