بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ شکاگو یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پروفیسر رابرٹ پیپ (Robert A. Pape) نے لکھا:
شی جن پنگ بیجنگ میں ٹرمپ کو وعیدیں دے رہے ہیں:
- تائیوان فوجی سرخ لکیر ہے۔
- تھوسائڈائڈز کے پھندے (Thucydides Trap) (1) میں مت پڑنا۔
- ایران کے ساتھ جنگ نے ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی تسدید (Deterrence) کو واشنگٹن کے ادراک سے کہاں زیادہ، تیزی سے کمزور کر دیا ہے۔
- بیجنگ اس وقت ایک حواس باختہ سپرپاور کو دیکھتا جو اپنی طاقت کی حدود سے زیادہ، الجھ گیا ہے اور وہ [بیجنگ] اس صورت حال سے پورا پورا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
- ایران کے ساتھ جنگ میں ٹرمپ کی تزویراتی شکست کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
- ٹرمپ ہلکی اور مہمل باتیں کرتا ہے جبکہ شی جن پنگ ممکنہ تنازع کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ تھوسائڈائڈز کا پھندا (Thucydides Trap):
یہ اصطلاح یونانی مورخ تھوسائڈائڈز (Thucydides) کے نام سے منسوب ہے، جو ایک سیاسی اور تاریخی نظریہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت (emerging power) کسی موجودہ طاقت (existing power) کو چیلنج کرتی ہے، تو ان کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں، زیادہ تر، جنگ چھڑ جاتی ہے۔ مشہور مثال پیلوپونیشیائی جنگ (Peloponnesian War) ہے جسے تھوسائڈائڈز نے بیان کیا تھا۔
پیلوپونیشیائی جنگ (Peloponnesian War) یونان کی دو بڑی ریاستوں، ایتھنز (Athens) اور اسپارٹا (Sparta) کے درمیان لڑی جانے والی ایک طویل اور تباہ کن جنگ (431-404 ق م) تھی، جس کے نتیجے میں اسپارٹا کی نئی طاقت فتح یاب ہوئی اور ایتھنز کی پرانی طاقت کی عظمت ختم ہو گئی۔۔۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ سے کہا کہ تھوسائڈائڈز کے پھندے میں مت پڑنا، یعنی چین کی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت سے پنگا مت لینا۔ شاید اس میں یہ نصیحت بھی مضمر ہو کہ نئی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت، "اسلامی جمہوریہ ایران" کے ساتھ تنازع کا خاتمہ بھی موجودہ امریکی سلطنت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ شی جن پنگ نے ٹرمپ کے لئے اس نصیحت کی تشریح کی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ