بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی اخبار ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا:
- "ایک مسئلہ، جس نے ٹرمپ کو بہت ناراض اور مایوس کر دیا ہے، وہ ایران کی تجاویز میں 'تاوان' کا مطالبہ ہے؛ کیونکہ
- روایتی طور پر تاوان "شکست خوردہ فریق" فاتح فریق کو ادا کرتا ہے۔
- ٹرمپ اگر ایران کے تاوان جنگ اور معاوضہ ادا کرنے کے مطالبے سے اتفاق کر لے تو یہ شکست قبول کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔"
نکتہ:
ٹرمپ کے غصے کا سبب یہ ہے کہ اس کے حاشیہ برداروں اور چاپلوس ٹیم ممبروں نے ابھی تک اس کو حتی کہ ایک بھی ایسے واقعے کی بھنک نہیں پڑنے دی ہے جس سے امریکیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا اظہار ہوتا ہو۔ انہوں نے ٹرمپ کو صرف اپنے بموں اور میزائلوں کے دھماکوں یا تیل بردار جہازوں پر فوجی چڑھائی اور بحری قزاقی کی تصویریں دکھائی ہیں۔ چنانچہ امریکی صدر کو ابھی تک معلوم ہی نہیں ہے کہ جنگ میں امریکہ ہار گیا ہے، اور اس کا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہؤآ ہے، آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر ایران کا کنٹرول مستحکم ہو گیا ہے اور مغربی ایشیا میں تمام امریکی اڈوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔
ٹرمپ سمجھتا ہے کہ اس جنگ کا فاتح ہے چنانچہ اس کو بہت غصہ آتا ہے کہ مقابل فریق اس سے تاوان جنگ کا مطالبہ کرے، لیکن اس کے غصے اور انکار سے سے امریکی شکست کی حقیقت کو چھپایا نہ جا سے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ