بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا؛ "ہمیں چین پر بھروسہ ہے"؛ یہ بیان ایرانی وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے بیجنگ کے دورے کے دوران اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد دیا۔ اس ملاقات میں سید عباس عراقچی نے امید ظاہر کی کہ چین امن کے فروغ اور تنازعات کے خاتمے کے لئے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا اور خطے میں جنگ کے بعد کے دور کے لئے ایک نئے فریم ورک کی تشکیل کی حمایت کرتا رہے گا۔

دو طرفہ تعاون سے اتحاد سازی کی طرف ایک جست
مورخہ 27 مارچ 2021ع کو جب ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے تو اس کو عالمی سطح پر کوریج ملی۔ ایک معاہدہ جو سیاسی، اقتصادی، سیکورٹی اور تکنیکی شعبوں میں تہران-بیجنگ طویل مدتی تعاون کے لئے عمومی فریم ورک کا تعین کرتا ہے، اور شہید سید ابراہیم رئیسی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے ساتھ ہی نافذ العمل ہؤا۔

ایران اور چین نے اس معاہدے کے فریم ورک میں اپنی اسٹراٹیجک شراکت داری کو مزید گہرا کر دیا ہے اور اس سے مغربی تسلط کے خلاف اتحاد بنانے کی طرف بڑھنے کے لئے فائدہ اٹھایا۔ یہ کامیابی چین اور روس کے تعاون سے برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی رکنیت سے حاصل ہوئی ہے۔

ایران نے ابتداء میں ـ سنہ 2023ع ـ میں شنگھائی میں شامل ہو کر مشرق میں اپنی سیکورٹی-سیاسی بنیاد کو مضبوط کیا اور پھر اس کی حمایت سے سنہ 2024ع میں بڑے اقتصادی اتحاد BRICS میں شامل ہؤا، جس میں چین نے دونوں مراحل میں کلیدی اور معاون کردار ادا کیا۔

چین کے صدر نے گذشتہ ستمبر میں تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران چین کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے اور کہا کہ "امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں کے باوجود، ہم نے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کی بنیاد رکھی ہے اور تمام شعبوں میں ـ جیت-جیت کی حکمت عملی کے مطابق - تعاون کو فروغ دینے کے لئے تیار ہیں."

اقوام متحدہ کی پابندیوں کو واپس لانے کے یورپیوں کے دعوے کے خلاف چین اور روس نے ایران کا ساتھ دیا جو اس کثیرالجہتی تعاون کا مظہر تھا؛ ایک ایسی کارروائی جس نے اسنیپ بیک میکانزم (یا ٹریگر مکانزم یا Snapback) کو مؤثر طریقے سے سیاسی اور قانونی تعطل سے دوچار کر دیا۔

ماہرین کے مطابق، جنگ بھی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کی طرح تہران کے اپنے شراکت داروں ـ بشمول بیجنگ ـ کے ساتھ تعلقات کو گہرا کر چکی ہے اور یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ تعلقات جنگ کے بعد کے دور میں اپنی ساختی جڑوں ـ یعنی مغرب کے غلبے اور یکطرفہ پن سے نمٹنے میں اشتراک کی وجہ سے مزید اسٹراٹیجک اور کثیر الجہتی ہونگے ور مغربی فریقوں کے ساتھ عارضی معاہدوں پر کم انحصار کیا جائے گا۔ یوں کہ، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، توانائی کی ترانزٹ، فوجی-تکنیکی تعاون اور ڈالر کے متبادل قومی کرنسیوں میں مالی تصفیے میں تعاون، تعلقات کا مرکزی ستون بن جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: زہرا طہرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ