14 مئی 2026 - 00:01
حصۂ اول | ایران - چین تعلقات کا فروغ، بحرانوں کے سائے میں

حالیہ برسوں میں اقتصادی اور پراکسی جنگوں سے لے کر براہ راست تصادم تک مغرب کے پیدا کردہ متعدد بحرانوں کے تناظر میں ایران اور چین کے تعلقات گہرے ہوتے رہے ہیں اور ماہرین دو طرفہ تعلقات کے مستقبل کو مثبت قرار دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا؛ "ہمیں چین پر بھروسہ ہے"؛ یہ بیان ایرانی وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے بیجنگ کے دورے کے دوران اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد دیا۔ اس ملاقات میں سید عباس عراقچی نے امید ظاہر کی کہ چین امن کے فروغ اور تنازعات کے خاتمے کے لئے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا اور خطے میں جنگ کے بعد کے دور کے لئے ایک نئے فریم ورک کی تشکیل کی حمایت کرتا رہے گا۔

دوسری طرف سے چینی وزیر خارجہ وانگ یی" نے ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی ریاست کی جنگ کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مکمل جنگ بندی کے قیام کو ضروری اور ناگزیر قرار دیا اور موجودہ نازک موڑ پر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطوں پر زور دیا۔ وانگ یی کے مطابق یہ خطہ ایک اہم موڑ سے گزر رہا ہے اور تہران اور بیجنگ کے درمیان ہم آہنگی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

حصۂ اول | ایران - چین تعلقات کا فروغ، بحرانوں کے سائے میں

یہ ملاقات ایسے موقع پر ہوئی جب ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کمزور جنگ بندی کے مرحلے میں ہے۔ اس جنگ کے علاقائی اور عالمی نتائج بشمول آبنائے ہرمز کی نازک صورتحال نے بین الاقوامی برادری کے ایک طاقتور رکن کے طور پر بیجنگ پر بہت سی نظریں مرکوز کر رکھی ہیں۔ یہ توجہ خاص طور پر اس وقت سے مزید بڑھ گئی ہے جبکہ چین آج اور کل امریکی صدر کا میزبان ہے۔

حصۂ اول | ایران - چین تعلقات کا فروغ، بحرانوں کے سائے میں

ایک حساس ملاقات جس میں ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی متعدد دھمکیوں اور کوششوں کے باوجود آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی اور ایران کے خلاف اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے میں چینی صدر شی جن پنگ بالادست پوزیشن میں ہے۔

حصۂ اول | ایران - چین تعلقات کا فروغ، بحرانوں کے سائے میں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران مخالف قرارداد کا ویٹو ہوجانا

چین، جس نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے ہی اس جارحیت کی مذمت کی ہے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، حال ہی میں (7 اپریل 2026ع‍) روس کے ساتھ مل کر بحرین کی جانب سے سلامتی کونسل میں امریکی حمایت یافتہ ایران مخالف قرارداد کو ویٹو کرکے ایران کے لئے اپنی عملی حمایت کا مظاہرہ کیا، جس کی یہ قرارداد آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے طاقت کے استعمال کی اجازت دیتی تھی۔

حصۂ اول | ایران - چین تعلقات کا فروغ، بحرانوں کے سائے میں

اس اقدام کی وجہ بتاتے ہوئے، اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کانگ نے کہا کہ ایسی کوئی بھی اجازت، کشیدگی کو مزید بڑھا دے گی اور سنگین نتائج کا باعث بنے گی، چنانچہ بیجنگ اس کی مخالفت کرتا ہے۔

حصۂ اول | ایران - چین تعلقات کا فروغ، بحرانوں کے سائے میں

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بدھ، 15 اپریل کو اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ایک فون کال میں، ایران مخالف، یکطرفہ، بحرین مجوزہ  امریکی قرارداد کی مخالفت کے فیصلے کو کشیدگی میں اضافہ روکنے کے لئے مؤثر قرار دیا۔ چینی وزیر خارجہ نے جنگ میں ایرانی قوم کی استقامت اور خود اعتمادی کی بھی تعریف کی اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے اور جنگ کے خاتمے میں مدد کے لئے اپنے عزم پر زور دیا۔

حصۂ دوئم | ایران - چین تعلقات کا فروغ، بحرانوں کے سائے میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: زہرا طہرانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha