اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبہ “معقول اور فراخدلانہ” ہے، جبکہ امریکہ اب بھی غیر منطقی مطالبات پر اصرار کر رہا ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ ایران نے کسی قسم کی اضافی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ صرف اپنے “مشروع حقوق” کی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا:خطے میں جنگ کا خاتمہ،ایرانی جہازوں کے خلاف سمندری کارروائیوں کا خاتمہ،ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی،آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت،پورے خطے میں امن و استحکام
یہ سب ایسے نکات ہیں جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور دنیا کے مفاد میں ہیں۔بقائی کے مطابق امریکی مؤقف اسرائیلی حکومت کے بنائے گئے بیانیے سے متاثر ہے اور واشنگٹن اب بھی “غیر معقول مطالبات” دہرا رہا ہے۔
ایرانی ترجمان نے امریکہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمیشہ خود کو خطے میں ایک “ذمہ دار طاقت” ثابت کیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ:کیا ایران نے دنیا بھر میں فوج کشی کی؟کیا ایران نے دوسرے ممالک کے خلاف دھونس کا مظاہرہ کیا؟کیا ایران نے مذاکرات کے دوران دہشت گردی یا قتل کی کارروائیاں کیں؟ان کے مطابق خطے میں امریکہ کی موجودگی خود تشدد اور عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے۔
بقائی نے کہا کہ ایران چین کے ساتھ ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر مسلسل رابطے میں ہے اور بیجنگ خطے کی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے۔
انہوں نے پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکراتی عمل کو “پیشہ ورانہ انداز” میں آگے بڑھا رہا ہے اور بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہوگا۔
قطر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کئی ممالک ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم “سرکاری ثالث” اب بھی پاکستان ہی ہے۔
یورپ کو خبردار کیا
بقائی نے بعض یورپی ممالک کی جانب سے بحری بیڑے خطے میں بھیجنے کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کو امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ میں آکر کسی ایسے بحران کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اصل ذمہ داری ان فریقوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے خطے میں کشیدگی پیدا کی۔
جوہری پروگرام اور امریکہ پر تنقید
ایرانی ترجمان نے امریکہ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات خود امریکہ کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی کو ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرنی چاہیے۔
“ایران اپنے حقوق کے حصول میں سنجیدہ ہے”
بقائی نے کہا کہ ایران ہر وقت اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہے، چاہے وہ سفارتکاری کے ذریعے ہو یا دیگر راستوں سے۔
انہوں نے کہا:
“ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے حصول میں سنجیدہ ہے اور سفارتی عمل میں نیک نیتی کے ساتھ شریک ہوتا ہے، لیکن امریکہ اب تک خود کو قابلِ اعتماد ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔”
آپ کا تبصرہ