اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دشمن پر عدم اعتماد کے باوجود، ہم عزت، حکمت اور مصلحت کی بنیاد پر مذاکرات کو ممکن سمجھتے ہیں اور اگر رہبر انقلاب کے تحفظات اور ایران کی قوم کی مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو ہم اپنے عہد کے پابند ہوں گے۔
سینيئر فوجی کمانڈروں کے اجلاس میں حالیہ مسلط کردہ جنگ کے دوران فوج کی کارکردگی کی رپورٹ بھی صدر مسعود پزشکیان کو پیش کی گئی ہے ۔
پزشکیان نے ملک کے سامنے موجود راستوں کے بارے میں کہا کہ اب ہمارے سامنے مختلف آپشنز ہیں؛ یا تو ہم عزت، اقتدار اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوں اور ایران کی قوم کے حقوق کو حاصل کریں، یا پھر نہ جنگ نہ امن کی حالت میں رہیں، یا پھر جنگ اور مقابلے کا راستہ جاری رکھیں۔
انہوں نے زور دیا: عقلی، منطقی اور قومی مفادات پر مبنی ترجیح یہ ہے کہ مسلح افواج کی طرف سے میدان جنگ میں حاصل فتح کو سفارت کاری کے میدان میں بھی مکمل کیا جائے اور ایرانی قوم کے حقوق کو عزت و اقتدار کے ساتھ مستحکم کیا جائے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بھی اسی بنیاد پر، دشمن پر عدم اعتماد کے باوجود، عزت، حکمت اور مصلحت کی بنیاد پر مذاکرات کو ممکن سمجھتا ہےاور اگر رہبر انقلاب کے تحفظات اور ایران کی قوم کی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو ایران اپنے عہد و ذمہ داریوں کا پابند رہے گا۔
آپ کا تبصرہ