7 مئی 2026 - 21:04
حصۂ اول | اسلامی جمہوریہ ایران نے ابراہیم معاہدوں کی بساط لپیٹ دی

ایران پرامریکی جارحیت نے ثابت کر دیا کہ طاقت کا توازن بدلنے میں ایران کی حکمت عملی نے ابراہیم معاہدوں کی سیکیورٹی کی بنیادوں کو گرادیا ہے۔ ایران نے ثابت کیا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے تحفظ میں ناکام اور نااہل ہے اور عرب ممالک [ـ جن کی فکری نشوونما سست سمجھی جاتی ہے ـ] بھی [گویا] اس حقیقت کا ادراک کرسکے ہیں کہ  درآمدی سلامتی [Imported security] پائیدار نہیں ہؤا کرتی؛ چنانچہ کہنا چاہئے کہ ایران نے عملی طور پر اس معاہدے کی بساط لپیٹ لی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ 28 فروری 2026ع‍ کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی تاریخ میں ایک سنگ میل رقم کیا جس نے پچھلی دہائیوں کے تمام مفروضوں کو چیلنج کر دیا۔ واشنگٹن اور تل ابیب برسوں سے عرب ممالک کی سلامتی کو اسرائیل کی سیکورٹی سے جوڑنے اور ایران کے خلاف ایک متحدہ صہیونی-عرب محاذ بنانے کے لئے کوشاں تھے؛ لیکن جنگ کی آگ بھڑک اٹھتے ہی ثابت ہو گیا کہ یہ "محور" (محاذ) نہ صرف سیکیورٹی کا ضامن نہیں ہے، بلکہ خود خلیج فارس کے ممالک کے وجود کے لئے شدید خطرے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

مشترکہ سیکیورٹی کے وہم کا خاتمہ

"معاہدہ ابراہیم" کی بنیاد اس مفروضے پر قائم تھی کہ اسرائیل کی سلامتی اور خلیج فارس کے عرب ممالک کی سلامتی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہے؛ لیکن اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت، خواہ 12 روزہ جنگ میں ہو یا حالیہ معرکے میں، سے عیاں ہؤا کہ تل ابیب کی "پیشگی (یا حفظ ما تقدم والی) جنگوں" کی حکمت عملی نہ صرف خطے کے ممالک کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہے، بلکہ اس سے براہ راست متصادم ہے۔ ان حملوں پر ایران کا پرزور جواب اور خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے بنیادی ڈھانچوں کی تباہی نے واضح طور پر پیغام دیا کہ "امریکی اڈوں کے سائے میں غیر جانبداری کا کوئی مطلب نہیں ہے بلکہ یہ اڈے بذات خود میزبان ممالک کو علاقائی تنازعات کا فریق بنا دیتے ہیں"؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کی جنگی جارحیتوں کی قیمت عرب دارالحکومتوں کو بھی چکانا پڑے گی۔

اسرائیل؛ فرضی اتحادی سے بدامنی کے سرچشمے تک

ستمبر 2025 میں قطر پر اسرائیلی حملہ اور اس ملک کی قومی خودمختاری کی پامالی، اور لبنان اور شام پر بار بار حملوں، اور علاو ازیں "نتانیاہو" کے متنازعہ "گریٹر اسرائیل" منصوبے کی نقاب کشائی ـ جس میں عرب ممالک کے وسیع حصے شامل ہیں ـ نے اسرائیل پر خطے کے عربوں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔

یہ معاملہ خاص طور پر ریاض کے لئے چونکا دینے والا تھا جو اس وقت خود کو معاہدہ ابراہیم پر رسمی دستخط اور اس میں شمولیت کی دہلیز پر دیکھ رہا تھا۔

آج عرب رہنما شاید اس حقیقت کو آشکار نہ کریں، لیکن جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ نے صراحتاً کہا، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اسرائیل خطے میں عدم تحفظ کا اصل ذریعہ ہے۔ نیتن یاہو کا ـ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے مقصد سے ـ سعودی عرب سے اسرائیلی بندرگاہوں تک پائپ لائن بچھانے کا خیال، شریک ممالک کے لئے فائدہ مند معاشی منصوبہ ہونے سے زیادہ، اسرائیل کے مفادات کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے؛ یہ وہ منصوبہ ہے جس نے ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی ممکنہ جنگوں میں ان ممالک کی اہم شریانوں کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے اور انہیں تنازع کی طرف کھینچ لے گا۔

واشنگٹن کی سپورٹ چھتری کی ناکارہ

اگرچہ ریاستہائے متحدہ نے کئی دہائیوں سے خود کو خطے اور عرب ممالک کے تحفظ کا ضامن متعارف کرانے کی کوشش کی ہے، لیکن ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران، مؤثر تسدید (ڈیٹرنس) پیدا کرنے اور خلیج فارس کے توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچوں اور اسٹراٹیجک بندرگاہوں کے تحفظ میں اس کی نااہلی ثابت ہو گئی۔

اگرچہ خطے کے کچھ ممالک اب بھی جدید امریکی فوجی ٹیکنالوجی، بشمول ایف-35 طیاروں اور دفاعی نظاموں پر انحصار کو ضروری سمجھتے ہیں، لیکن یہ طرز عمل اب میز پر موجود واحد اسٹراٹیجک آپشن نہیں سمجھا جاتا؛ کیونکہ یہ ریاستیں بھی اس حقیقت سے باخبر ہو چکی ہیں کہ واشنگٹن ـ ہمیشہ ـ حساس تاریخی مواقع پر اسرائیلی مفادات کو عرب ممالک کے استحکام و تحفظ پر ہی نہیں بلکہ ان کے وجود پر، ترجیح دیتا ہے۔ [امریکہ جو اپنے مفاد اور وجود کو اسرائیل پر قربان دینے کا پابند ہے، وہ اسرائیل کے مفادات کو چھوڑ کر دوسروں کو کیونکر بچانے کی کوشش کرپائے گا]۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: قبس زعفرانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha