اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی اسپیکر محمدباقر قالیباف نے کہا ہے کہ طوفانالاقصی صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ادبیاتِ مقاومت میں کلمات اور کلام کے طوفان کی علامت بھی ہے۔
یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب کتاب “طوفان الاقصی” کے نام سے شعری مجموعہ شائع کیا گیا جس میں انقلاب اسلامی کے 110 شاعروں کے اشعار شامل ہیں جو فلسطینی مزاحمت سے متعلق ہیں۔
قالیباف کے مطابق یہ اشعار فلسطینی عوام کی جدوجہد اور مزاحمت کی عکاسی کرتے ہیں اور ان میں رباعی غزل قصیدہ اور دیگر اصناف شامل ہیں جو جذباتی اور انسانی پہلوؤں کو بیان کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنی تمہید میں کہا کہ طوفان الاقصی ایک تاریخی واقعہ ہے جس نے خطے اور دنیا میں گہرا اثر چھوڑا اور اسرائیل کو شدید اسٹریٹجک نقصان پہنچایا۔
ان کے مطابق مزاحمتی ادب صرف جنگ کا بیان نہیں بلکہ ظلم کے خلاف شعور بیدار کرنے اور آنے والی نسلوں تک حقیقت پہنچانے کا ذریعہ ہے۔
قالیباف نے کہا کہ جب تک ظلم اور قبضہ موجود ہے مزاحمتی ادب بھی زندہ رہے گا اور یہ کسی مخصوص جغرافیہ یا وقت تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک عالمی اور انسانی پیغام رکھتا ہے۔
انہوں نے اس کتاب کی تیاری میں شامل ادیبوں اور محققین کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ کام فلسطینی کاز اور مزاحمتی ثقافت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آپ کا تبصرہ