26 اپریل 2026 - 19:23
مآخذ: ابنا
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی حقیقت اب بھی دھندل،ٹرمپ کے دعوے جھوٹے

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور جنگ بندی سے متعلق دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رہورٹ کے مطابق، امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور جنگ بندی سے متعلق دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران پر حالیہ حملوں کے باوجود اس کی مذاکراتی پوزیشن کمزور نہیں ہوئی، جبکہ حزب اللہ اور حماس جیسے علاقائی اتحادی بھی فعال ہیں۔ اس صورتحال نے بنیامین نیتن یاہو پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات سے قبل کوئی واضح کامیابی حاصل کریں۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بارہا امن قائم کرنے کی اپنی صلاحیتوں کا دعویٰ کر چکے ہیں، تاہم ایران کے ساتھ مذاکرات تاحال بے نتیجہ رہے ہیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع بھی برقرار ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائیوں میں کمی کے باوجود بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے۔ لاکھوں افراد اب بھی بے گھر ہیں اور کسی بھی وقت دوبارہ جنگ چھڑنے کا خدشہ موجود ہے۔

امریکی سفارتکار مائیکل ریٹنی کے مطابق موجودہ جنگ بندیاں صرف وقتی طور پر حالات کو بگڑنے سے روکتی ہیں، مگر اصل سیاسی مسائل کو حل نہیں کرتیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کو کئی اہم محاذوں پر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری تعطل، آبنائے ہرمز کی بندش اور علاقائی تنازعات میں پیش رفت نہ ہونا شامل ہے۔

ادھر لبنان میں جنگ بندی کو بھی غیر مستحکم قرار دیا گیا ہے، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اسی طرح غزہ میں انسانی بحران بدستور جاری ہے اور لاکھوں فلسطینی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ کھلی جنگ میں کمی آئی ہے، لیکن پسِ پردہ کشیدگی اور تنازعات ابھی ختم نہیں ہوئے، جس سے خطے میں دیرپا امن کا حصول مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha