بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا|| بڑی طاقت کہلوانے والے کے نادان صدر ویسے بھی جھوٹ کی قطاریں لگانے کے لئے مشہور ہے، اور اس نے حالیہ ایام میں کسی فرضی یا جعلی خبر لے کر اسی قصے پر پوسٹیں لکھ لکھ کر کئی دن صرف کئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل ازیں ایک یہودی امریکی جھوٹے میڈیا کارکن کی طرف سے ایک پوسٹ کو ہاتھوں ہاتھ لیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ "ایران 8 عورتوں کو سزائے موت دے رہا ہے"۔ ٹرمپ نے اسی پوسٹ اپنی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ "ایران 8 عورتوں کو پھانسی دے رہا ہے اور میری ان سے درخواست ہے کہ انہیں پھانسی نہ دے اور اگلے دور کے مذاکرات کا راستہ ہموار کرے"۔
اور اس کے ایک دن دوبارہ لکھا: "ایران نے میرے کہنے پر آٹھ عورتوں کی موت کی سزا منسوخ کی ہے"، حالانکہ یہ پورا قصہ ہی بے بنیاد ہے۔
کیونکہ ایرانی عدلیہ نے بھی کم از کم دو مرتبہ وصاحت کی ہے کہ ان عورتوں میں سے کچھ تو پہلے ہی رہا ہو چکی ہیں اور کچھ دوسروں کو ایسے الزامات کا سامنا ہے کہ اگر عدالت میں ثابت ہوجائیں تو بھی انہیں سزائے موت کا سامنا نہیں کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ افواہ ایک امریکی -یہودی میڈیا کارکن ایال یعقوبی نے اڑائی تھی۔
ادھر ایک امریکی وکیل نے بھی اس قصے کے حوالے سے ٹرمپ کا مذاق اڑایا ہے۔
امریکی وکیل اور میڈیا کارکن رابرٹ بارنیس نے لکھا: ایال یعقوبی (پہلا اسرائیلی کارکن جو مسلسل جھوٹ بولتا ہے) کی ایک جھوٹی خبر جس کو امریکی صدر نے بڑی محبت سے گلے لگایا۔ جو بہرحال ایران کے لئے اچھی خبر ہے: وہ راضی ہو سکتے ہیں کہ آٹھ عورتوں کو سزائے موت نہ دیں، جنہیں اصولا طور موت کی سزا نہیں دی جانی تھی۔ کیونکہ انہیں سزا دینا سخت ہے اس لئے کہ یہ تصویری اے آئی کی تخلیق ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ