اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت کی خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سیاسی، میڈیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ انہیں ایران کی سفارتکاری کا ایک بڑا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستانی میڈیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور تجزیہ کاروں نے لاریجانی کی حالیہ اسلام آباد آمد کو یاد کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مختلف حلقوں نے انہیں مزاحمت، جرات اور قومی خودمختاری کے دفاع کی علامت قرار دیا۔
پاکستان کے سینیٹر ناصر عباس جعفری نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ لاریجانی کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ ان تمام اقوام کے لیے ایک بڑا نقصان ہے جو ناانصافی اور جارحیت کے خلاف کھڑی ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں ایران کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید لاریجانی نے اپنی شہادت سے قبل عالم اسلام کو اتحاد کا پیغام دیا تھا اور امریکہ و اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مشترکہ موقف اپنانے پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق یہ پیغام مسلم دنیا کے لیے ایک اہم آزمائش ہے۔
معروف پاکستانی تجزیہ کار سلمان غنی نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں لاریجانی کو جرات و مزاحمت کی زندہ مثال قرار دیا۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کے عہدیدار نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ تنازع قابو سے باہر ہو سکتا ہے اور اس پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں، جو وسیع تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاعِ مشروع کے دائرے میں ہیں، اور اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا جواب مزید سخت اور وسیع ہوگا۔
آپ کا تبصرہ